پاکستانی صحافی کی جانب سے بنگلہ زبان کا تمسخر

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے بلاشبہ صحافی معاشرے کی ناک کان اور آنکھ ہوتے ہیں اس لیے صحافت سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

پاکستانی خاتون صحافی فوزیہ یزدانی اور مرتضیٰ سولنگی نے بنگلہ زبان کے مختلف الفاظ موسلی اور بھات کوتھائے کا تمسخر اڑایا ہے جس پر پاکستان کے ہی چند صحافیوں نے ان کا ساتھ دیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافت سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں اور اگر صحافی ہی کسی دوسرے کی مادری زبان کا مذاق بنائیں گے تو پھر انہیں اپنی حیثیت کا تجزیہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی بینک کے سراہنے پر احساس پروگرام تنازعات کا شکار

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ لکھا ہے بنگلہ دیش سے فون آیا ہے وہ چاول کے ساتھ مچھلی بھی دے رہے ہیں۔

پاکستان کے معروف صحافی مرتضیٰ سولنگی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ موسلی + بھات کوتھائے؟ یعنی مچھلی اور چاول کہاں سے مل سکتے ہیں؟

صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بنگلہ زبان کے الفاظ موسلی اور بھات کا استعمال کیا ہے جن کا تمسخر اڑاتے ہوئے معروف خاتون پاکستانی صحافی فوزیہ یزدانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ میں چونکہ بنگلہ دیش میں خدمات سرانجام دے چکی ہوں اس لیے میں اپنی ہنسی روک نہیں پائی۔

فوزیہ یزدانی کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ایک صحافی عباس ناصر نے بھی مذاق اڑایا۔

بیشتر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ موسلی اور بھات بنگلہ زبان کے الفاظ ہیں جن کے معنی مچھلی اور چاول ہیں تاہم کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی بھی مادری زبان کا مذاق بنائیں۔ صحافی برداری سے تعلق رکھنے والے افراد کو کسی صورت بھی یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی بھی مادری زبان کا تمسخر اڑائیں۔

متعلقہ تحاریر