آئندہ بجٹ کے حوالے سے اہم تجاویز

محمد احسن ملک کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعمیرات اور جائیداد کی خرید وفروخت کے شعبے کو دی گئی رعایات واپس نہ لی جائیں۔

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن ڈی ایچ اے اسلام آباد، راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری محمد احسن ملک نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعمیرات اور جائیداد کی خرید وفروخت کے شعبے کو دی گئی رعایات واپس نہ لی جائیں کیونکہ اس سے متعلقہ شعبے کو شدید دھچکا لگے گا۔

نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہوئے محمد احسن ملک نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو اہم ریلیف ملا۔ پہلے پراپرٹی کا ہولڈنگ پیریڈ 8 برس تھا جسے 4 برس کردیا گیا جبکہ گین ٹیکس کے تناسب میں بھی تبدیلی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کی وباء کے دوران صرف تعمیرات اور جائیداد کی خرید و فروخت کا شعبہ تھوڑا بہت چلتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگائی کی بڑھتی شرح نے وزیراعظم کی نیند اڑا دی

ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھائیں

محمد احسن ملک نے بتایا کہ وزیر خزانہ کو ایسوسی ایشن کی طرف سے بھجوائی گئی تجاویز میں درخواست کی گئی ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور کرونا لاک ڈاؤن کے سبب پیدا شدہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کی بجٹ میں نئے ٹیکس نہ لگائے جائیں بلکہ ٹیکسز میں کمی کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے۔

پراپرٹی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس کم کیا جائے

انہوں نے کہا کہ پراپرٹی کی فروخت پر ابھی ایڈوانس انکم ٹیکس ایک فیصد لاگو ہے جو خریدار کو (جو فائلر ہو) ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر وہ یہ رقم اگلے برس ٹیکس ریٹرن میں کلیم کر کے واپس لے لیتا ہے۔ اس ٹیکس کو ایک فیصد کے بجائے اعشاریہ 25 فیصد کیا جائے تاکہ حکومت کو فائدہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ نان فائلر کے لیے جائیداد خریداری ٹیکس 2 فیصد ہے جسے برقرار رہنے دیا جائے۔

کیپٹل گین ٹیکس 3 برس اور فلیٹ ریٹ 5 فیصد کیا جائے

محمد احسن ملک نے کہا کہ بیواؤں کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر فائلر قرار دیا جائے جبکہ کیپٹل گین ٹیکس (جو موجودہ قانون کے تحت 4 برس بعد صفر ہو جاتا ہے) کے دورانیے کو تین برس اور فلیٹ ریٹ 5 فیصد کردیا جائے۔

اراضی کے ڈی سی اور ایف بی آر ریٹس نہ بڑھائے جائیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اراضی کے ڈی سی اور ایف بی آر ریٹس اس وقت تک نہ بڑھائے جائیں جب تک کرونا کے سبب لاک ڈاؤن کرنا پڑ رہا ہے اور حالات معمول پر نہیں آجاتے۔

چار صفحات کا سوال نامہ، وکیل کی خدمات لینے پر مجبور

محمد احسن ملک نے کہا کہ جیولرز، منی چینجرز اور بلڈرز و ڈویلپرز کے اثاثے جانچنے کے لیے یکساں طریقہ کار اپنایا گیا ہے جو درست نہیں کیونکہ تینوں شعبے اور ان کے کام کے طریقہ کار مختلف ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے سے وابستہ کاروباری طبقے کو (جو فائلر ہیں) 4 صفحات کا سوالنامہ بھجوایا گیا ہے جن کے لیے وہ وکیل یا چارٹر اکاؤنٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

فائلرز سے پہلے نان فائلرز کے خلاف کارروائی کریں

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ آئندہ بجٹ میں ایف بی آر کے ایس آر او  924 میں جس چیز پر عمل کرنے سے لوگوں کو سہولت ہو سکتی ہے اسے ضرور شامل کریں۔ جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے میں جو افراد فائلرز ہیں انہیں نوٹس بھجوائے جائیں اور انسپیکشن کے بجائے پہلے نان فائلر کو پکڑا جائے۔ ہمیں ٹیکس دہندہ اور فائلرز ہونے کی سزا کیوں دی جا رہی ہے۔

رئیل اسٹیٹ کا قومی ادارہ بنایا جائے

محمد احسن ملک نے کہا کہ پاکستان میں جائیداد کا شعبہ حکومت کو ٹیکس فراہمی کا اہم ذریعہ ہے مگر ہمارے لیے اس حوالے سے ایک بھی ادارہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز، رئیل اسٹیٹ مینجمنٹ بورڈ اور رئیل اسٹیٹ کونسلرز ہوتے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ اتھارٹی بل فوری نافذ کیا جائے

انہوں نے کہا کہ ایک اچھی خبر آئی تھی کہ جائیداد کے شعبے کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بل منظور کیا جو صدر مملکت کو بھجوایا گیا مگر پھر اس بارے میں کچھ پتہ نہ چلا۔ اس قانون سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت پراپرٹی کے فراڈ سے بچنے میں مدد ملتی اور اراضی سے زیادہ پلاٹ فروخت کرنے کی بھی روک تھام ہوتی۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ رئیل اسٹیٹ اتھارٹی بل فوری نافذ کیا جائے۔

محمد احسن ملک نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے کو دی گئی رعایات واپس لی گئیں تو اس سے اس شعبے کو بہت دھچکا لگے گا۔ حکومت کو ٹیکس بڑھانے کے بجائے اس میں کمی کرنی چاہیے اور ٹرانزیکشنز کو بڑھانا چاہیے تاکہ حکومت کو زیادہ آمدن ہو۔ ملک میں آج بھی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو سب سے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

فائلرز کو مراعات دیں

انہوں نے کہا کہ فائلرز کو اتنی مراعات دیں کہ نان فائلرز بھی فائلر بننے پر راغب ہوسکیں۔

پرائز بانڈ رجسٹریشن سے اربوں روپے مارکیٹ میں آئیں گے

محمد احسن ملک نے کہا کہ پرائز بانڈ پر پہلے مالک کا نام نہیں ہوتا تھا لیکن اب اسے نام پر رجسٹرڈ کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے جو خوش آئند اقدام ہے۔ اس طرح اب اربوں روپے گمنام نہیں رہیں گے اور وہ رقم مارکیٹ میں آئے گی جس سے پراپرٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرگرمیاں بڑھیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پراپرٹی کو خریدار کے نام پر ہونا چاہیے۔ فائلز کی فروخت اور اوپن لیٹر کر سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر