شادی بیاہ میں بھانڈ اور میراثیوں کی روایت دم توڑنے لگی

وقت کی دوڑ اور ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع کو فروغ ملنے پر کافی کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں شادی بیاہ میں ہنسی مزاح اور ناچ گانے کی قدیمی ثقافت دم توڑ گئی ہے۔ پنجاب میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بھانڈ اور میراثی اب ماضی کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ جب پنجاب میں شادی بیاہ کی رسومات روایتی دھوم دھام سے منائی جاتی تھیں۔ ان رسومات میں پنجاب کی ثقافت کے بہت سے رنگ دیکھنے کو ملتے تھے۔ تیل، مہندی، گھڑولی اور کھارا کی رسومات ماضی قریب کی بات ہے۔ ان میں سے کچھ رسومات اب بھی موجود ہیں مگر ان کا رنگ ڈھنگ کافی حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ خاص طور پر شہروں میں ان رسومات کی شکل بالکل تبدیل ہوچکی ہے جبکہ دیہات میں بھی یہ نئی نئی شکلوں میں سامنے آتی ہیں۔ ان کا اصل رنگ اب بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

پنجاب میں ان ہی رسومات میں سے ایک رسم یا ثقافتی رنگ بھانڈ اور میراثی کی جانب سے شادی بیاہ اور خوشیوں کے موقع پر ٹولیوں کی شکل میں مختلف آئٹمز تھے جن میں سہرا گانا، ناچنا گانا اور ایک دوسرے پر طنز کرنا وغیرہ شامل ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عمرکوٹ ثقافتی ریسٹورنٹ کے ملک بھر میں چرچے

وقت کی دوڑ اور ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع کو فروغ ملنے پر کافی کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ پنجاب میں اب تو نہ ویسے بھانڈ یا میراثی رہے ہیں اور نہ ہی شادی بیاہ کے موقع پر ویسی محافل اور رسومات رہی ہیں جو ایک زمانے میں پنجاب کی ثقافت سمجھی جاتی تھیں۔

پنجاب میں یہ رواج ہوا کرتا تھا کہ جب کسی گھر میں شادی ہوتی تھی تو کھارا کی رسم میں ان پیشہ ور میراثیوں کو خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا تھا جو کہ پارٹیوں کی شکل میں آکر مختلف آئٹمز پیش کرتے تھے۔ ان میراثیوں کے ہمراہ خواجہ سراء اور رقاص بھی ہوا کرتے تھے جو گانوں اور ٹپوں پر ناچتے تھے۔ جبکہ ان کے فن کے بعد انہیں نہ صرف پیسے بلکہ کھانے کا سامان اور کپڑے بھی دیئے جاتے تھے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ان میراثیوں کی مخصوص آبادی ہے جو ساندے کے علاقے کے قریب دھوپ سری میں آباد ہے۔ یہاں ان کے 200 سے 300 خاندان ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں۔ یہ عام طور پر نٹوں کے محلے سے مشہور ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر رہائشی گانے بجانے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کام نہ ہونے پر یہ لوگ مختلف کھانے پینے کی اشیاء گھر میں بنا کر اپنی آبادی میں ہی فروخت کرتے ہیں۔ یہاں کے کچھ لوگ رکشہ چلا کر، فیکٹری میں ملازمت کر کے اور دیگر روزگار کے کام کر کے اپنا گزرا کرتے ہیں۔

نیوز 360 نے اس آبادی میں موجود خاندانی میراثی شہزاد علی خان المعروف چھوٹا خان صاحب سے گفتگو کی۔ شہزاد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ دور دیکھا ہے جب ان کے خاندان کے لوگ اپنے پیشے میں عروج پر تھے۔

شہزاد خان نے بتایا کہ وہ 8 یا 9 سال کی عمر میں شادی بیاہ کے فنکشن میں پہلی بار گئے۔ اس وقت وہ زمین سے پیسے اکٹھے کرتے تھے۔ جس کے بعد انہوں نے 80 کی دہائی میں ہارمونینم سے باقاعدہ گانے کا کام شروع کیا۔ شادی بیاہ اور خوشیوں کے موقع پر خواجہ سراؤں اور رقاصاؤں کے ساتھ کام پر جانا شروع کیا اور اس وقت انہیں بہت پسند کیا جاتا تھا۔ لوگ پیسوں کے ساتھ ساتھ انہیں عزت بھی دیتے تھے۔

شہزاد خان نے اس کام میں زوال کے حوالے سے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور کے باعث ان کے کام کو نقصان ہوا جبکہ ہیرا منڈی ختم ہونے سے بھی ان کا کام کم ہونے لگا۔ اب ویسے فنکار بھی نہیں رہے اور نہ ہی فنکاروں کی قدر کرنے والے لوگ رہے ہیں۔ اب کبھی شادی یا خوشی کے موقع پر جائیں تو لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ ہم تو لوگوں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں اور ان کی بَلائیں اپنے سر لیتے ہیں مگر لوگ ہمیں اب پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اب تو کرونا وائرس کے باعث شادی بیاہ اور دیگر پروگرامز بھی نہیں ہورہے ہیں۔ اب ہماری برداری کے لوگ رکشہ چلاتے ہیں، فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں، ہماری عورتیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، ہم کیا کریں ہم بھی انسان ہیں مگر ہمیں انسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ اب ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ ہمارا خیال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہوئے صلہ رحمی کریں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حالات بہتر کریں۔

متعلقہ تحاریر