بجلی کا استعمال عیش نہیں ضرورت ہے، سعدیہ عباسی

25 ہزار روپے کے بجلی کے بل پر نان فائلرز کو 7.5 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا ہے کہ بجٹ میں بجلی صارفین کے لیے ایک اور مشکل پیدا کردی گئی ہے۔ 25 ہزار روپے کے بجلی کے بل پر نان فائلرز کو 7.5 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔ حکومت ایک طرف بجلی کئی گنا مہنگی کرچکی ہے اور ایسے میں یہ ٹیکس ظلم ہے۔ بجلی کا استعمال عیش نہیں ضرورت ہے۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ’نان فائلرز کے لیے بجلی کے بلوں پر 7.5 فیصد ٹیکس کا اطلاق پہلے 75 ہزار پر ہوتا تھا جسے کم کر کے ماہانہ  25 ہزار کیا جا رہا ہے۔ حکومت بجلی کو کئی گنا مہنگا کرچکی ہے۔ اب 25 ہزار روپے کا بجلی کا بل امیر کا نہیں بلکہ مڈل کلاس کے گھروں میں آتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بجلی ہونا یا نہ ہونا دونوں ہی دردسر

انہوں نے کہا کہ ’ایک گھر میں ماں باپ، بچے اور پوتا پوتی ہوں تو یہ کم از کم 8 سے 11 افراد کا گھرانہ بنتا ہے۔ ان افراد کے گھروں کے بجلی کے بل 25 ہزار آنا معمول ہے۔  بجلی کا استعمال کوئی عیش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ شہروں میں گرمیوں میں درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ روم کولر یا اے سی استعمال کرنا مجبوری ہوتی ہے۔ اب اس پر 7.5 فیصد ٹیکس کہاں کا انصاف ہے اور ریلیف ہے؟‘

بیوہ خواتین کی آمدن اور مشکلات کیسے بڑھیں گی؟

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ’پاکستان میں کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں کرائے کی آمدن کسی بیوہ کو جاتی ہے۔ شوہر گھر بنا کر انتقال کرجائے تو بیوہ خاتون کرائے کی آمدن پر گزارہ کرتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی کرائے دار بجلی کا بل ادا کیے بغیر چلا جائے یا 25 ہزار روپے کا بل اس بیوہ خاتون کے لیے چھوڑ جائے تو یہ عذاب کاباعث بنے گا۔ پاکستان میں ایسے ہزاروں واقعات ہیں جہاں کرائے دار بجلی کا بل ادا کیے بغیر بھاگ جاتے ہیں اور مالکان ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔‘

اوورسیز پاکستانیوں کی آمدن اور مشکلات میں اضافہ کیسے ہوگا؟

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ’پاکستان میں اوورسیز پاکستانی اپنے گھر کرائے پر دے کر ملک سے باہر نوکری یا کاروبار کررہے ہوتے ہیں۔ ہزاروں ایسے پاکستانی ہیں جن کے پاکستان میں مکان کرائے پر ہیں اور ان کے اہل خانہ کا گزر بسر ان ہی مکانات کے کرائے کی آمدن سے ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ہزاروں ایسی اووسیز فیملیز ہیں جو ملک میں مکان خریدتی ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مکانوں کو کرائے پر دے کر آمدن حاصل کریں اور جب وہ پاکستان آئیں تو ان گھروں میں قیام کرتے ہیں۔ بجلی کے بلوں پر اضافی ٹیکس اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مشکلات کا باعث بنیں گے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بھی کرائے دار کئی مشکلات اور زیادتیاں کرتے ہیں اور ان کے بجلی کے بل ادا کیے بغیر چلے جاتے ہیں۔‘

متعلقہ تحاریر