رانا ایوب کو 26 ہزار دھمکی آمیز ٹویٹس موصول

بھارت کی مسلمان صحافی کو جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھارتی حکام سے کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

بھارتی صحافی رانا ایوب نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 26 ہزار سے زائد ٹویٹس میں انہیں مغلظات دی گئیں، جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور مجھے دہشتگردوں کا ہمدرد کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ٹویٹس دائیں بازو کے بھارتیوں اور سعودی قوم پرستوں کی جانب سے کی گئیں جو کہ یمن کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ٹویٹ کرنے کی سزا کے طور پر میرے لیے پوسٹ کی گئیں۔

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق رانا ایوب نے 22 جنوری کو سعودی عرب کی حکومت کو یمن میں جنگ کو بڑھاوا دینے پر تنقید کی تھی جس کے بعد انہیں ٹوئٹر پر دھمکیاں مل رہی ہیں۔

سی پی جے ایشیا کے پروگرام کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلے نے کہا کہ بھارتی حکام رانا ایوب کو دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں اور ان کی حفاظت یقینی بنائیں۔

بدھ کے روز ایک نیوز ویب سائٹ اسکوپ بیٹس پر رانا ایوب کی جعلی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں خاتون کہہ رہی ہیں کہ میں انڈیا سے نفرت کرتی ہوں اور انڈیا کے شہریوں سے بھی نفرت کرتی ہوں۔

اسکوپ بیٹس نے تو یہ ویڈیو جعلی ہونے کی وجہ سے ہٹا دی لیکن رانا ایوب کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد انہیں دھمکی آمیز پیغامات ملنے میں اضافہ ہوا۔

رانا ایوب کے بھارتی ناقدین کا کہنا ہے کہ رانا یمنی عسکریت پسندوں سے ہمدردی رکھتی ہیں جنہوں نے سعودی عرب پر 20 دسمبر پر راکٹ سے حملہ کیا تھا جس میں دو بھارتی شہری بھی مارے گئے تھے۔

رانا ایوب نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف یمن جنگ کے تناظر میں سعودی حکومت پر تنقید کی تھی۔

متعلقہ تحاریر