انٹربینک میں ڈالر 178.98 روپے پر بند، اسٹاک مارکیٹ میں 286 پوائنٹس گرگئی
سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان نے کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمت کے سبب پیداوار محدود کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بند ترین سطح پر بند ہوا، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں 286 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، ادھر کوئلے کی قیمت میں اضافہ اور اس کی فراہمی متاثر ہونے سے مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی قیمت میں اضافے کا خدشہ ہے۔
انٹربینک میں ڈالر 47 پیسے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین 178 روپے 98 پیسے پر بند ہوا۔ 7 فروری 2022 سے اب تک انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 4 روپے 51 پیسے بڑھ چکی ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 561 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 179 روپے 80 پیسے پر فروخت ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں پہلی یورپین کار پیوجوٹ 2008 متعارف کرادی
گورنر اسٹیٹ بینک کا زرعی قرضے کے فروغ کے لیے ٹاسک فورس کا اعلان
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، قرض و سود کی ادائیگیوں کے سبب روپے پر دباو مسلسل بڑھ رہا۔
دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں حصص فروخت کرنے والوں کا پلڑا بھاری رہا۔ اختتام پر مارکیٹ میں 286 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 43 ہزار 366 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بے چینی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
ادھر سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان نے پیداوار محدود کرنے پر غور شروع کردیا ہے ، کوئلے کی قیمت اور دستیابی سیمنٹ فیکٹریوں کے لئے بڑا چیلنج بن گیا،،، عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت 375 ڈالر فی ٹن سے کم نہ ہوسکی ، جبکہ اگست 2021 میں کوئلہ 140 ڈالر فی ٹن تھا۔
سیمنٹ کی مقامی فیکٹریاں مہنگا کوئلہ خریدنے کے بجائے افغانی کوئلے پر انحصار کررہے ہیں، مگر یہ کوئلہ انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو سمینٹ کی پیداوار محدود کرنا پڑے گی۔









