لوٹا نہیں کہ کسی دوسری پارٹی میں چلا جاؤں، وزیر خزانہ شوکت ترین

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے حکومت 1800 روپے والے کو 800 روپے بجلی کے بل پر ریلیف فراہم کررہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اور سینیٹر شوکت ترین نے کہا ہے کہ لوٹا نہیں ہوں، کسی دوسری حکومت میں بالکل نہیں رہوں گا۔ ملک میں ڈیزل اور پٹرول کی کوئی قلت نہیں،  34 دن کا اسٹاک موجود ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیپینس انڈیکس کے مطابق پاکستان میں لوگ بھارت سے زیادہ خوش ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی کے ریلیف اور پٹرول کی سبسڈی پر بات چیت چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم خواتین کو خودمختار بنانے پر کام کررہے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ

بروقت گاڑی ڈیلیور نہ کرنے پر ایم جی موٹرز کو جرمانہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ہر سال ہیپینس کا انڈیکس جاری کرتا ہے، سال 2018 میں پاکستان 75 ویں نمبر پر تھا اب ہیپینس انڈیکس 67 نمبر پر آگیا یے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت ہیپینس انڈیکس میں 133 سے 139 ویں نمبر پر گیا ہے۔ اپوزیشن مسلسل شور مچاتی رہی کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے جبکہ  مہنگائی کے حساس اعشاریہ 36 ماہ کی کم ترین سطح پر لے آئے ہیں۔ اب 1800 روپے والے کو 800 روپے بجلی کے بل پر ریلیف دیا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول اور بجلی کے ریلیف پر معاملہ چل رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے یورو بانڈ سست روی کا شکار ہیں، یوکرین اور روس کی وجہ سے دنیا بھر میں بانڈ متاثر ہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ میں بانڈ جاری کرنے کا وقت نہیں۔

سابق وزیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل بس خواب دیکھیں اور  لمبی لمبی نیند کریں۔

شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 545 ملین ڈالر رہا، ایکسپورٹ 28 فیصد بڑھی ہیں، ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا ہے اور 20.1 ارب ڈالر ہیں، جنوری کی نسبت فروری میں بڑی صنعتوں نے 8.1 فیصد ترقی کی، معیشت میں مکمل گرفت ہے اور ترقی کی شرح مستحکم ہے۔

متعلقہ تحاریر