تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی میں ترین گروپ کا کردار اہم

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ترین گروپ کا سب سے بڑا مطالبہ بزدار کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانا تھا جس پر کل وزیراعظم نے لبیک کہتے ہوئے عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کی سیاسی چال کے نتیجے میں مسلم لیگ (ق) کی ٹیم نے حکومتی پچ پر کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی متحدہ اپوزیشن کی وکٹ پر آگئی ہے۔ اس ساری ڈویلپمنٹ کے نتیجے میں دونوں دھڑوں کے لیے جہانگیر ترین گروپ کی اہمیت سب سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی میں سب سے اہم کردار اب جہانگیر ترین گروپ کا ہوگا۔ ترین گروپ کا فیصلہ ، فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ پردے کے پیچھے سے بہت بڑی ڈویلپمنٹس ہو رہی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ترین گروپ کو رام کرنے کے لیے ہائی لیول پر رابطے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کا اسلام آباد جلسہ، میڈیا غیرجانبدارانہ کوریج میں ناکام

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن کو پہلا سرپرائز مل گیا ، ق لیگ نے حکومتی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ چوہدری پرویز الہیٰ نے گذشتہ روز وزیراعظم سے ملاقات کی ۔ عمران خان نے مسلم لیگ (ق)کے صدر کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہے۔

اس موقع پر چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کے اعتماد پر پورا اترنے کی پوری کوشش کروں گا۔ پرویز الہٰی نے ملکر عوامی خدمت کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

تاہم اپوزیشن نے جوابی کرتے ہوئے بلوچستان عوام پارٹی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے ۔ بی اے پی کی قومی اسمبلی میں 5 نشستیں ہیں۔ بی اے پی کے پارلیمانی لیڈر نے متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے کیونکہ گذشتہ روز حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ہے۔ بہت ساری باتیں واضح ہوگئی ہیں ، ق لیگ حکومت کی جانب چلے گئی ہے جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی اور بی اے پی نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب رہ جاتا ہے جہانگیر ترین گروپ، جس کے ایم پی ایز کے مقابلے میں ایم این ایز کی تعداد کافی کم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے منحرف ایم این ایز کی گذشتہ دنوں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہیں سندھ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ یہ ترین گروپ کے وہ ایم این ایز تھے جن میں سے زیادہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے اضلاع سے تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کو اپنے ساتھ ملانے کے بعد حکومت ، ترین گروپ کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اگر ترین گروپ نے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ، جو دکھائی بھی دے رہا ہے تو منحرف ارکان کی ایک بڑی تعداد دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہو جائے گی اور اپوزیشن کے لیے 172 ارکان کی حمایت مشکل ہو جائے گی۔ پردے کے پیچھے اس حوالے سے بہت سی ڈویلپمنٹس ہو چکی ہیں ، ترین گروپ کے چند ایک تحفظات ہیں جن  پر بات چیت چل رہی ہے، تاہم خبریں یہی آرہی ہیں کہ ترین گروپ بھی حکومت کے ساتھ مل جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ترین گروپ کا سب سے بڑا مطالبہ بزدار کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانا تھا جس پر کل وزیراعظم نے لبیک کہتے ہوئے عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا تھا اور ان کی جگہ چوہدری پرویز الہٰی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر