پی ٹی آئی حکومت کا ساڑھے تین سالہ دور حکومت اور معاشی چیلنجز
پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں فی کس آمدنی 1651 ڈالر سے کم ہوکر 1542 ڈالر پر آگئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کے ساتھ جنگی ماحول اور پھر کووڈ 19 نے حکومت کے چیلنجز میں مزید اضافہ کیا۔۔ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالاحکومت میں اہم معاشی اعشاریے کیا رہے بتاتے ہیں اس رپورٹ میں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملک پر بیرونی قرضے تقریبا 95 ارب ڈالر کے تھے جو مارچ 2022 میں 130 ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران ملک پر مقامی قرضے 16 ہزار 416 ارب روپے سے بڑھ کر 27 ہزار 411 ارب روپے پر پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
روپے کی گرتی قدر، موٹرسائیکلیں ایک سے 9ہزار روپے تک مہنگی
تاجکستان کے سفیر پاکستان سے بہتر تجارتی تعلقات کے خواہاں
اسی عرصے کے دوران زرمبادلہ زخائر 14 ارب 48 کروڑ ڈالے سے بڑھ کر 18 ارب 55 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئے۔ درآمدات 56 ارب 60 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 54 ارب 98 کروڑ ڈالر پر آگئی۔

برآمدات 24 ارب 76 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر مارچ 2022 تک 25 ارب ڈالر پر پہنچ گئی۔ تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے کم ہوکر مارچ 2022 تک 27 ارب ڈالر پر آگیا۔ جاری کھاتوں کو خسارہ 19 ارب 90 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 12 ارب ڈالر پر آگیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں فی کس آمدنی 1651 ڈالر سے کم ہوکر 1542 ڈالر پر آگئی ہے۔ مہنگائی 5 فی صد سے بڑھ کر 12 اعشاریہ 2 فی صد ہو گئی ہے۔









