عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس، بطور اپوزیشن حکمت عملی طے
تنظیم سازی جلدمکمل کرنےاور آئندہ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم کیلئےپارلیمانی بورڈمتحرک کرنے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں کور کمیٹی ممبران، پنجاب اور خیبرپختون خوا کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور پارٹی کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں ہوا جس میں پی ٹی آئی کی بطور اپوزیشن پارٹی حکمت عملی طے کر لی گئی۔
عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اجلاس پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ ، گورنرز اور پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پی ٹی آئی موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرےگی۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر
پی ٹی آئی حکومت بحال ہونے پر اپوزیشن خوشی سے بےحال
اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا اور وزیراعظم کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے متعلق بھی مشاورت ہوئی۔
اجلاس میں عوامی رابطہ مہم اورپرامن احتجاج سےمتعلق مشاورت کی گئی جبکہ 12اپریل کوپشاورمیں جلسہ کرنےکابھی فیصلہ کیا گیا ، عمران خان پشاورجلسےسےعوامی رابطہ مہم کاآغازکریں گے۔ کورکمیٹی نے پارٹی کی تنظیم سازی جلدمکمل کرنےکابھی فیصلہ کیا اور آئندہ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم کیلئےپارلیمانی بورڈمتحرک کرنے کا فیصلہ ہوا۔
اجلاس میں تحریک انصاف کی بطور اپوزیشن پارٹی حکمت عملی طے کی گئی اور کور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ عوام کے اندر اور باہر تحریک انصاف مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں پر امن احتجاج سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور آج سے شروع ہونے والی عوامی رابطہ مہم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے ساتھ فیصلہ کیا گیا کہ منگل کے روز پشاور میں بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا جہاں سے عمران خان عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریں گے۔
اجلاس میں پارٹی کی تنظیم سازی جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کورکمیٹی نے کہا کہ اگلے انتخابات کے ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے پارلیمانی بورڈ کو متحرک کیا جائے۔









