وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان پر اعتماد کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور
عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد خیبر پختون خوا اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ تاہم باہمی مشاورت کے بعد قرارداد کو واپس لے لیا گیا تھا۔
خیبر پختون خوا (کے پی کے) اسمبلی میں وزیراعلیٰ محمود خان پر اعتماد کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ، محمود خان کے حق میں 88 اورمخالفت میں 3 ووٹ آئے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے بعد وزیراعلیٰ محمود خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوران اسمبلی اجلاس پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کےاراکین نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط نہیں کئے، اس لیے تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع
پشاور میں غیرملکی سستے سامان کی مشہور ستارہ مارکیٹ منفرد اور مثالی
رہنما جے آئی عنایت اللہ کا کہنا تھا ہمارے اراکین نے اسمبلی ریکوزیشن پر دستخط کیے ہیں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ روز اول سے مرکز کے اندر اور صوبے میں تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں رہے ہیں۔
عنایت اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا اسمبلی پیپر پر میرے طرف سے کیا گیا دستخط اسمبلی ریکوزیشن کے لیے تھا جوکہ پرانا ہے۔ جماعت اسلامی ملک کے اندر مضبوط اور موثر جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے واپس لے لی تھی۔
عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد خیبر پختون خوا اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ تاہم باہمی مشاورت کے بعد قرارداد کو واپس لے لیا گیا تھا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا مقصد اسمبلی کو تحلیل سے بچانا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اسمبلی تحلیل نہ کرانے کی یقین دہانی پر تحریک واپس لے لی۔









