شہباز گل اور شہزاد اکبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جواب طلبی کے لیے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے نام ایف آئی اے اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے حکم کو معطل کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

چیف جسس اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گل اور شہزاد اکبر کی جانب سے ایف آئی اے اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ کا ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کا دفتر کھولنے کا حکم

مبینہ مراسلے کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست، اسلام آباد ہائی کورٹ سے مسترد

مرزا شہزاد اکبر اور ڈاکٹر شہباز گل اپنے وکیل رئیس عبدالواحد ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل رئیس عبدالواحد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کا نام بغیر کسی شکایت یا انکوائری یا کسی اور کارروائی کے "نو فلائی لسٹ/اسٹاپ لسٹ” میں ڈالا گیا ہے، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کا عمل بددیانتی پر مبنی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے وکیل کا کہنا تھا عدالت غیر قانونی اور غیر آئینی عمل کو کالعدم قرار دے، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے نے درخواست گزاروں کا نام "نو فلائی لسٹ/اسٹاپ لسٹ” میں صبح تقریباً 1.55 بجے ڈالا ہے۔

وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ جو بدنیتی کے ارادے اور بدسلوکی کو ظاہر کرتی ہے، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کی غیر قانونی کارروائی من مانی اور خلاف قانون ہے، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے نے پی ایم ایل ن کے اراکین کی آواز پر عمل کیا۔

رئیس عبدالواحد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ درخواست گزاریں سابق وزیر اعظم کے مشیر تھے، سیاسی انتقام ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ نقل و حرکت کی آزادی درخواست گزار کا بنیادی حق ہے۔

وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ محض مقدمہ کا زیر التوا ہونا بھی کسی شہری کی نقل و حرکت کی آزادی کو روکنے اور ملک میں آزادانہ طور پر باہر جانے اور آنے سے روکنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

وکیل ریئس عبدالواحد کا کہنا تھا کہ پاکستان کنٹرول آرڈیننس 1981 کے سیکشن 2 کے ذیلی سیکشن 2 کی سراسر خلاف ورزی ہے، درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلیک لسٹ کے حوالے سے اس عدالت کی ججمنٹ موجود ہے، تاہم اس معاملے پر سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے کل پوچھ لیتے ہیں۔ تب تک کے لیے آرڈر کو معطل کیا جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر