سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے قبل سیاستدان بھی پاک فوج کی کردار کشی کرتے رہے
عسکری قیادت کے خلاف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہی نہیں سیاستدان بھی ماضی میں پروپیگنڈا مہم چلاتے رہے ہیں۔

آج پاکستان کے سب سے منظم ادارے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں ، فوج کے خلاف یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے قبل پاکستان کی سرکردہ سیاسی قیادت بھی فوج کے خلاف زہر فشانی کرتی رہی ہے۔
اکتوبر 2020 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آرمی چیف پر اپنی حکومت گرانے کا الزام لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
لیٹر گیٹ کی تحقیقات ، ساری نظریں سپریم کورٹ آف پاکستان پر مرکوز
خارجہ محاذ کے بجائے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر کام جاری، لنک ڈاؤن
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف
لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر انتخابات میں دھاندلی کرانے اور ان کی حکومت کو ہٹانے کا الزام عائد کیا تھا۔
نواز شریف نے میڈیا پر پابندیاں ، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے سمیت حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا تھا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ان کی حکومت گرانے اور عمران خان کو وزیر اعظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سابق وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں آمروں نے بارہا سیاستدانوں کو غدار قرار دلوایا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے آئین کے لیے لڑنے والوں کو آئین کا غدار قرار دیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز
اکتوبر 2020 میں ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی ریلی خطاب کرتے ہوئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کی تھی۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ووٹ کو عزت دو نواز شریف کا نعرہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کون اس نعرے سے نفرت کرتا ہے۔ آئی ایس آئی کا نام لیے بغیر مریم نواز نے کہا کہ مزار قائد پر نعرے لگانے پر ہمارے خلاف کس نے مقدمات قائم کرائے ہم سب جانتے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری
اسی طرح 2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک سخت تقریر کی، جس میں انہوں نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرنے پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی۔
سابق صدر نے کہا تھا کہ آرمی چیف ہر تین سال بعد آتے اور جاتے ہیں لیکن سیاسی قیادت کو یہیں رہنا ہے۔ انہوں کہا کہ "ہم ملک کو بہتر جانتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے معاملات کو کیسے چلانا ہے۔”
خیبرپختونخوا اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو متنبہ کیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے کردار کشی سے باز رہے۔ اگر آپ باز نہ آئے تو میں پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کے ملزم جرنیلوں کے نام سامنے لے آؤں گا۔
سابق صدر نے کہا تھا کہک ہم ملکی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے لیکن "انہیں بھی سیاست دانوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔”
آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے مشرف کے دور میں پانچ سال جیل میں گزارے لیکن کمانڈو تین ماہ بھی جیل میں گزارنے سے ڈرتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا تھا اسٹیبلشمنٹ خود کو سیاست سے الگ کرے ورنہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز ایف آئی اے نے فوجی قیادت کیخلاف ٹاپ ٹرنڈ چلانے والے سرغنہ مقصود عارف سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا تھا۔
اس سے قبل فارمیشن کمانڈرز نے پاک فوج کے خلاف حالیہ پروپیگنڈا کا نوٹس لیا تھا۔ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاک فوج اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فورم نے ادارے اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی مہم کا نوٹس لے لیا ہے۔
فارمیشن کمانڈرز نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد عوام اور ادارے کے مابین دراڑ پیدا کرنا ہے۔
کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک کی قومی سلامتی سب سے پہلے اور مقدم ہے۔
اس موقع پر کہا گیا کہ پاک فوج بغیر کسی سمجھوتے کے ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کام کرے گی۔









