شیری مزاری نے آئی ایس پی آر کے بیان کی تردید کردی
عمران خان نے سیاسی ڈیڈ لاک میں مصالحت کے سلسلے میں فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا بلکہ فوج نے وزیردفاع کے توسط سے ملاقات کا وقت مانگا اور عمران خان کے سامنے تین آپشن رکھے تھے ۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایس پی آر کی جانب سے دو روز قبل ہونے والی پریس بریفنگ پر اپنے ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
خواجہ آصف نے ٹریکٹر ٹرالی کے بعد شیرین مزاری کو مرد قرار دے دیا
شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا
میں واضح کردوں اور ریکارڈ پر لےآؤں کہ وزیراعظم نے”سیاسی ڈیڈلاک“ کےخاتمےکیلئےفوج سےمددطلب نہیں کی۔ فوج نےاس وقت کےوزیرِ دفاع پرویزخٹک کے ذریعےملاقات کا وقت مانگا اور 3 تجاویز دیں کہ وزیراعظم مستعفیٰ ہوں، عدمِ اعتماد کا سامناکریں یا نئےانتخابات قبول کریں۔
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) April 15, 2022
شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں اور ریکارڈ پر لانا چاہتی ہوں کہ عمران خان نے سیاسی ڈیڈ لاک میں مصالحت کے سلسلے میں فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔انہوں نے کہا کہ فوج نے اُس وقت کے وزیر دفاع کے ذریعے میٹنگ طلب کی جس میں ان کی جانب سے تین آپشن سامنے رکھے گئے۔
شیریں مزاری نے سوال کیا کہ عمران خان کئی بار کہہ چکے تھے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے پھر عمران خان استعفے کا آپشن کیوں دیں گے؟ اس بات کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے عدم اعتماد کو صاف مسترد کردیا تھا ،، پھر وہ یہ آپشن سامنے کیوں رکھتے؟ یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے ۔









