کرپٹو کرنسی کی قدر میں کمی وقار ذکا کی محنت ضائع کردے گی؟

چین نے بٹ کوائن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قدر میں زبردست کمی آئی ہے۔

چین کی جانب سے بٹ کوائن پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد اس کی قدر میں کمی ہوگئی ہے اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان کے کرپٹو کرنسی کے ماہر وقار ذکا کو خیبرپختونخوا حکومت نے کرپٹو کرنسی ایکسپرٹ مقرر کیا ہے۔

چین وہ ملک جو عالمی سطح پر بٹ کوائن کی کان کنی (مائننگ) میں تقریباً 75 فیصد حصص کا مالک ہے۔ اب چین نے بٹ کوائن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قدر میں زبردست کمی آئی ہے۔

اس اقدام کے بعد جمعرات کے روز کو پاکستان میں ٹوئٹر پر کرپٹو سے متعلق ٹرینڈ بھی چلا۔

 

چین میں اب مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسیز پر مبنی خدمات یا لین دین کی پیشکش کی اجازت نہیں ہوگی۔ تجارتی پلیٹ فارمز پر بھی ڈجیٹل اثاثوں میں خدمات پیش کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن لوگ اگر چاہیں تو بھی اسے رکھ سکتے ہیں۔

جمعرات کے روز بٹ کوائن کی قدر میں حیرت انگیز طور پر 36 ہزار ڈالرز کی کمی آئی ہے۔ حال ہی میں ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے بھی کمپنی کی لین دین کے لیے بٹ کوائن کے استعمال کا اعلان کر کے واپس لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وقار ذکا کا وزیراعظم بننے کے بعد ملکی قرضہ ادا کرنے کا دعویٰ

بعد میں انہوں نے ایک ٹوئٹ میں واضح کیا تھا کہ ٹیسلا نے کوئی بٹ کوائن فروخت نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیسلا کے پاس اب بھی بٹ کوائنز موجود ہیں۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے ماہر اور معروف ٹی وی میزبان وقار ذکا نے حال ہی میں ٹوئٹر پر خیبرپختونخوا حکومت کے ذریعے قائم کردہ ڈیجیٹل اثاثوں کی کمیٹی کا حصہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم چین کے اقدام کے بعد کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کو مستقبل اتنا تاریک نظر آرہا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ انہیں خدشہ ہے کہ وقار ذکا کی تقریباً ایک دہائی تک طویل کوششیں رائیگاں جاسکتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر