جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کے بعد چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس فائل کردیا گیا

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عام انتخابات سے متعلق کیس میں جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کردیا، اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ جاری ہوتے ہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میںریفرنس دائر کردیا گیا۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عام انتخابات سے متعلق کیس میں جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کردیا، اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ اتے ہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میںریفرنس دائر کردیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ  میں جسٹس یحی خان آفریدی کے درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندو خیل کے فیصلے کو پڑھا ہے اس لیے انکے حکمنامے سے بھی متفق ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

خزانہ خالی مگر وکلاء کیلئے سوئمنگ پول اور 72 ہزار حجاج کرام کو سبسڈی دینے کے اعلانات

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو سیاسی جماعتوں سے متعلق مقدمات میں از خود نوٹس لینے میں اختیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ عدالت سے رجوع کرنے والی سیاسی جماعت کی نیک نیتی بھی مدنظر رکھی جانی چاہیے۔

جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا حوالہ دیتے ہوکہا گیا ہے کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کے بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، پی ٹی آئی کے اسمبلی سے استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے نوٹ میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی،سیاستدانوں کو اپنے معاملات متعلقہ فورم پر حل کرناچاہئیں،سیاسی معاملات میں عدالت کو نہیں ملوث کرناچاہیے۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہےکہ پنجاب اور خیبرپختو نخواالیکشن کا معاملہ سیاسی نوعیت کا ہے، قلیل مدت میں سپریم کورٹ کو تیسری مرتبہ سیاسی معاملہ میں گھسیٹا جا رہا ہے، ملک میں اس وقت نہ رکنے والا سیاسی ہیجان ہے ۔

جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران معاملہ سپریم کورٹ میں پہلی مرتبہ آیا، چیف جسٹس نے 12ججز سے مشاورت کے بعد عدم اعتماد پر ازخودنوٹس لیا۔

نوٹس میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی ووٹنگ کے عمل سے عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا،سیاسی بحران اس وقت شدید ہو گیا جب ایوان کا اعتماد کھونے کے بعد استعفے دیے گئے۔،پی ٹی آئی کے اسمبلی سے استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔

اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے اختلافی نوٹ میں نوے دن کے اندر انتخابات کے اصول کو تسلیم کیا ہے۔

فواد چوہدری نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پیغام میں کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے، ہمارا بنیادی مسئلہ الیکشن ہیں جج یا بنچ ہمارا مسئلہ نہیں ہیں۔

متعلقہ تحاریر