نواز شریف پر پریس کانفرنس میں من پسند صحافیوں کو مدعو کرنے کا الزام

سفینہ خان نامی خاتون صحافی نے الزام عائد کیا ہے کہ لیگی قائد نواز شریف اپی پریس کانفرنس میں صرف مخصوص صحافیوں پر مدعو کرکے دیگر سے امتیازی سلوک کرتے ہیں

خاتون صحافی نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی پریس کانفرنس میں صرف من پسند صحافیوں کو مدعو کرتے ہیں۔

سفینہ خان نامی ایک خآتون صحافی نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی پریس کانفرنس کیلئے چند مخصوص صحافیوں کو مدعو کرکے دیگر رپورٹرز سے امتیازی سلوک کرتے ہیں۔

یہ  بھی پڑھیے

قومی سلامتی کمیٹی کا ملکی سالمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ

سماجی راطبے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سفینہ خان نامی خاتون نے کہا کہ میاں صاحب آپ ہمیشہ چند صحافیوں کو بلا کر پریس کانفرنس کرتے ہیں، کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے۔

اے بی این نامی ادارے سے وابستہ سفینہ خان نے کہا کہ نوازشریف کا اسٹاف لندن میں انکی میڈیا ٹاکس میں صحافیوں کو پسند ناپسند کی بنیاد پر مدعو کرتا ہے جس کی وجہ سے ورکنگ جرنلسٹس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ اصل جمہوری شخص میں الطاف حسین دیکھا، کیا کمال کے حاضر دماغ ہیں ہر کسی کو ہر سوال پر لاجواب کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے کل ساڑھے تین گھنٹے پریس برفینگ دی اور ہر صحافی کے ہاتھ میں ہر وہ انفارمیشن کے پیپر تھے جس پر وہ بات کر رہے تھے۔ عرصہ بعد ایک پاکستانی سیاستدان کی اصل پریس کانفرنس کور کی۔

سفینہ نے کہا کہ الطاف حسین بلکل بھی آہستہ آہستہ نہیں بولتے، انکے اندر مزاح کرنے کی عادت ہے جیسے میڈیا کیپچر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا تھا شائد وہ ٹھیک نہیں ہیں، لگتا ہے انکے متعلق جان بوجھ کر ایک پلاننگ کے تحت انکا غلط امیج بنایا گیا۔

خاتون صحافی نے کہا کہ نواز شریف نے الطاف حسین کی پریس کانفرنس کے بعد اپنے آپکو جمہوری دکھانے کے لئے باہر کھڑے صحافیوں کے ٹی وی لوگو  اندر لے جانے کے لئے بندہ باہر بھیجا زیادہ تر صحافیوں نے انکار کر دیا ایک نے اپنا ٹی وی لوگو دے دیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیا سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

نواز شریف نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پیغام میں کہا ہے کہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں، چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے۔

متعلقہ تحاریر