عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کے بے نظیر واقعات

پی ٹی آئی کارکنان نے اپنے قائد کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جی ایچ کیو اور لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نذرآتش کردیا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد سے لےکر لندن تک اور مڈل ایسٹ سے لےکر امریکا تک پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی جماعت کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے راولپنڈی میں پاکستان آرمی کے ہیڈ کوارٹر اور لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے ہوں اور آگ لگا دی۔

پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے چیئرمین عمران خان کی جان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک کا پیہہ جام کردیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ حکومت نے انہیں غیرقانونی طریقے سے اغواء کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی درخواستیں مسترد؛ توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس غیر معینہ مدت تک بند رہے گی، پی ٹی اے

شاہ محمود قریشی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے کیمیکل والا واٹر استعمال کررہی ہے ، ملتان میں پی ٹی آئی کارکنان پر پولیس کی جانب سے گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملتان میں ان کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان کے ملازمین کو مارا پیٹا گیا۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے کہا  کہ یہ گرفتاری وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ لندن سے منسلک ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ سب کچھ ان کے بڑے بھائی کے کہنے پر ہورہا ہے۔

9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد احتجاج کرتے ہوئے راولپنڈی میں قائم پاکستان آرمی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہوگئے، مشتعل مظاہرین نے جی ایچ کیو کے گیٹ کو آگ لگادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔

پی ٹی آئی کارکنان نے جی ایچ کیو کے مین گیٹ کو توڑ دیا اور زبردست پتھراؤ کیا۔ مظاہرین کے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے ورکرز احتجاج کرتے ہوئے کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں داخل ہو گئے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے کور کمانڈر ہاؤس کو مکمل طور پر نذرآتش کردیا گیا۔ کور کمانڈر ہاؤس میں لگے ہوئے بینچز اور گملوں کو توڑ دیا گیا۔ گھر کے اندر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے لوٹ مار بھی کی گئی۔ گھر کے اندر موجود تمام فرنیچر کو بھی آگ لگا دی گئی۔ پارکنگ میں موجود گاڑیوں  کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ کور کمانڈر ہاؤس میں لگے ہوئے تمام سی  سی ٹی وی کیمروں کو توڑ دیا گیا۔

ملک بھر میں پی ٹی آئی کے زبردست احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی سیاست جماعت کے کارکنان نے کسی سرکاری رہائش گاہ کو نذرآتش کیا ہو اور وہ بھی فوج کے رہائشگاہ کو۔

حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں تقریباً دو گھنٹے سے زیادہ احتجاج کیا گیا ، گھر کو آگ لگائی گئی ، قیمتی سامان کو لوٹ لیا گیا مگر اس دوران نہ تو پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ فائربریگیڈ کے ادارے کی جانب سے کوئی  فائر فائٹر گاڑی آگ پر قابو پانے کے لیے بھیجی گئی۔

متعلقہ تحاریر