ظلم کے خلاف خاموشی، اُسوہ رسولﷺ کے منافی ہے،مولانا عبدالحبیب عطاری جامعہ این ای ڈی کی ایمپلائز محفلِ میلاد کمیٹی کے تحت میلاد کا انعقاد

جامعہ این ای ڈی کے تحت بائیسویں سالانہ محفل عید میلادالنبی(ص) کا انعقاد ہر برس کی طرح امسال بھی محمود عالم آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ این ای ڈی ایمپلائز محفلِ میلاد کمیٹی کے تحت منعقدہ اس محفل عید میلادالنبی(ص) بعنوان ” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے” سے مولانا عبدالحبیب عطاری نے خطاب کیا۔ اس پُرنور محفل میں معروف نعت خواں عدنان شیخ عطاری، محمد ساجد قادری، رضوان نقشبندی اور محمد خاور نقشبندی نے گلہائے عقیدت پیش کیے۔ جامعہ ترجمان کے مطابق اس محفل کا باقاعدہ آغاز میزبان جواد شیخ عطاری کی نظامت میں تلاوت کلامِ الہی سے کیا گیا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحبیب عطاری کا کہنا تھا کہ اُسوہ رسول اللہ(ص) معیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم مشکلات کے شکار ہیں، ان سے نکلنا چاہتے ہیں تو اپنا معیار اُسوہ رسول خدا(ص) کو قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس بھی مشکل میں ہیں سوچیں! اگر اس جگہ رسول اللہ(ص) ہوتے تو اُن کا کیا عمل ہوتا، معیار طے کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہاکہ یہ پُرآشوب دور ہے جب کہ ہر جانب ظلم و بربریت کا دور دورا ہے۔ آج غزہ لہو لہو ہے لیکن مسلم دنیا خاموش ہے۔ بتائیں رسول اللہ(ص) ہوتے تو وہ کیا وہ خاموش بیٹھ جاتے؟ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کا ساتھ دینا، ظالم کا ساتھ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی زمانے کے قلوب و اذہان میں نقش رسول اللہ(ص) زندہ ہے تو ظلم کے خلاف بلاخوف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ محفل عید میلادالنبی(ص) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا(ص) کو عالمین کے لیے نمونہ عمل بناکر بھیجا گیا، اُن کے ہر عمل کو مسلمانوں کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیماتِ رسول(ص) کی روشنی میں مسلمانوں کو دیگر اقوام سے بہتر نظر آنا چاہیے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے این ای ڈی ایمپلائز محفل میلاد کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے تحت منعقدہ میلاد کا مقصد ذاتِ رسول خدا(ص) سے روشنی حاصل کرنا ہےاور اپنے قلوب کو منّور کرنا ہے۔ اس موقعے پر رجسٹرار سید غضنفر حسین سمیت بڑی تعداد میں اسٹاف سمیت جامعہ کے اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی۔ اس محفل عید میلاد النبیﷺ کا اختتام بارگاہِ رب العزت میں مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لیے دعاۓ خیر سے کیا گیا

متعلقہ تحاریر