آزادیءِ اظہار رائے کا علمبردار جنگ اخبار سوشل میڈیا کے خلاف برسرپیکار

معروف اخبار نے اپنے اداریے میں سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پچھلے چند سالوں کے دوران پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے عام شہری کی رسائی ارباب اختیار تک ہوئی اور اسے اپنے خیالات کی ترویج کا موقع میسر آیا۔

سوشل میڈیا سے "اظہار رائے کی آزادی” کا حقیقی معنوں میں اطلاق ہوا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے نفرت اور شرانگیزی پر مبنی مواد بھی پھیلایا جاتا ہے۔

8 ستمبر کو روزنامہ جنگ نے اپنے ادارئیے میں "بےلگام سوشل میڈیا” کے حالیہ کردار پر تنقید کی۔ اخبار کے مطابق سوشل میڈیا کسی طور بھی مین اسٹریم میڈیا کے برابر نہیں، ساتھ ہی ساتھ حکومت کو تجویز دی گئی کہ سوشل میڈیا پر افواہیں روکنے کیلیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

مذکورہ اخبار آزادیءِ اظہار رائے کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی جانب سے اظہار رائے کے جدید ترین پلیٹ فارم کی بندش کا مطالبہ کرنا نہایت تشویشناک امر ہے۔

موقر روزنامے کے ادارئیے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ باتیں مختلف مواقعوں پر اہم سرکاری شخصیات کی جانب سے کی جاچکی ہیں۔

چند روز قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کے موقع پر اپنی تقریر کے دوران پراپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے متعلق خبردار کیا۔

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے دسمبر 2018 کی پریس کانفرنس میں پہلی بار "ہائبرڈ وارفیئر” کا ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اور نیوز چینل بند ہوگیا، صحافتی تنظیمیں خاموش

کیا اسے محض اتفاق سمجھا جائے کہ صحافتی اصولوں کا چیمپیئن ہونے کا دعویٰ کرنے والا اخبار آزادی ءِ اظہار رائے پر قدغن لگانے کا مطالبہ کررہا ہے؟

دراصل سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل میڈیم پلیٹ فارمز نے اخبارات کی مانگ میں کمی کردی ہے۔ اب بڑی بڑی مصنوعات، کاروباری و سماجی ادارے اپنے اشتہارات اور تعلقات عامہ کیلیے سوشل میڈیا استعمال کررہے ہیں۔

پچھلے چند برس کے دوران اخبار کی سرکولیشن کم ہوئی ہے، ساتھ ہی ساتھ  اشتہارات بھی سکڑتے جارہے ہیں، ممکنہ طور پر جنگ اخبار کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ اگر سوشل میڈیا اسی طرح پروان چڑھتا رہا تو اخبار کو شدید ترین مالی نقصانات اٹھانا پڑسکتے ہیں۔

Facebook Comments Box