بھارت میں مدر تھریسا چیریٹی پر جبرا” تبدیلی مذہب کے الزام کی تحقیقات کا آغاز

چائلڈ ویلفیئر حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ وڈودرا شہر میں مشنریز آف چیریٹی ہوم کی لائبریری سے 13 بائبلیں ملی ہیں اور لڑکیوں کو انہیں پڑھنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔

ہندوستان میں ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے آنجہانی مدر تھریسا کی خیراتی تنظیم مشنریز آف چیریٹی پر زبردستی مذہب تبدیل کرائے جانے کے الزام کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک بھر میں مسیحی اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کردیا گیا ہے۔

مغربی ریاست گجرات وزیر اعظم نریندر مودی کی جائے پیدائش ہے بھی ہے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مشنریز آف چیریٹی نے اپنے شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کو صلیب پہننے اور بائبل پڑھنے پر مجبور کیا جبکہ مشنریز آف چیریٹی کی جانب سے اس الزام کی تردید بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

گجرات ہندوستان کی ان متعدد ریاستوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 2019 میں مسٹر مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے زبردستی تبدیلی مذہب کو جرم قرار دیا ہے۔ ریاست اتر پردیش میں، کم از کم 80 افراد، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کو ایک الزام کے بعد جیل بھی بھیجا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق رواں برس بھارت میں 300 سے زائد عیسائی مخالف واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

مذکورہ تنظیم ایک سو تیس سے ​​زائد ممالک میں سرگرم ہے اور لاوارث بچوں کے لئے یتیم خانے اور اسکول چلاتی ہے۔ یہ ایچ آئی وی اور ایڈز سمیت تپ دق جیسی خطرناک بیماریوں کے علاج کے حوالے سے کام کرتی ہے۔

واضح رہے کہ مشنریز آف چیریٹی کی بنیاد 1950 میں آنجہانی مدر ٹریسا نے رکھی تھی، جو ایک رومن کیتھولک راہبہ تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کولکتہ شہر میں گزارا اور کام کیا اور امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔

متعلقہ تحاریر