ایلون مسک کو ٹوئٹر کی خریداری میں مبینہ ہیرپھیر پر مقدمات کا سامنا

ورجینیا اور سان فراسسکو میں ایلون مسک کیخلاف مقدمات دائر،مسک نے ٹوئٹس اور بیانات کے ذریعے ٹوئٹر کی خریداری کے معاہدے پر شکوک و شبہات پیدا کرکے کمپنی کے شیئرز کی مالیت گرائی ، مقصد کمپنی کی سستی داموں خریداری یا بغیر جرمانہ معاہدے سے پیچھے ہٹنا ہے،مقدمات میں الزام

دنیا کی امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک کو 44 ارب ڈالرکی خطیر رقم کے عوض سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی خریداری میں مبینہ ہیر پھیر مہنگی پڑگئی۔

ٹوئٹر کے شیئر ہولڈرز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے شیئر کی قیمت گرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایلون مسک کیخلاف مقدمہ دائرکردیا۔

یہ بھی پڑھیے


ایلون مسک کا آئندہ الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی حمایت کا اعلان

ایلون مسک کا ٹوئٹر کی خریداری کا منصوبہ عارضی طور پر روکنے کا اعلان

ایلون مسک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کے اقدام کا مقصد یا تو وہ اپنی 44 ارب ڈالر کی بولی واپس لینا ہے یا پھر وہ ٹوئٹر کی خریداری کی معاہدے میں رعایت  لینا چاہتے ہیں ۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ  برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی کے ارب پتی مالک نے  ٹوئٹس اور بیانات کے ذریعے 44 ارب ڈالر کے معاہدے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کیے جنہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ہفتوں سے ہلایا ہوا ہے۔

ایک شیئر ہولڈر  نے  بدھ کو دائر  کردہ دعوے کو کلاش ایکشن کا درجہ دینے کی استدعا  کرتے ہوئے  سان فرانسسکو کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو موقف اپنایا ہے کہ عدالت  معاہدے کی درستی کے حق میں فیصلہ دے اور شیئرہولڈرز کو  قانون   کے مطابق کسی  بھی نقصان میں ازالے کا حکم جاری ہے۔

ایلون مسک نے گزشتہ ہفتے اعلان کیاتھا کہ اسپام اکاؤنٹ کی تعداد واضح ثبوت سامنے آنے تک  ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔ ایلون مسک کے اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں ٹوئٹر کے شیئرز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا ۔

ورجینیا کے ولیم ہیرسنیک کی طرف سے دائر کردہ مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ایلون مسک نے اپریل کے آخر میں اس طرح کے بڑے سودے کیلیے درکار مستعدی کے بغیر ٹویٹر کی خریداری پر بات چیت کی۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر کی خریداری کے معاہدے کو صرف ٹویٹر کے شیئر ہولڈرز اور ریگولیٹرز کی طرف سے منظور کیا جانا تھا اور  یہ معاہدہ اس سال 24 اکتوبر تک مکمل ہونا تھا۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کو اچھی طرح معلوم تھا کہ کچھ ٹوئٹر اکاؤنٹس کو انسانوں کے بجائے سافٹ ویئر”بوٹس“ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، اور اس نے کمپنی کو خریدنے کی پیشکش کرنے سے پہلے اس حوالے سے ٹوئٹ بھی کیا تھا۔

شکایت  میں موقف اپنایا گیا ہے کہ  ایلون مسک نے  منظم ہتھکنڈے اپنا کر بیانات  اور  ٹوئٹس کے ذریعے معاہدے کے بارے میں شکوک پیدا کیے اور ٹوئٹر کے شیئرز کوکافی حد تک نیچے لے آئے ۔

دعوےمیں  الزام عائد کیا گیا ہے کہ مسک کے ان اقدامات کامقصد ٹوئٹر کو بہت کم قیمت پر خریدنا تھا یا بغیر کسی جرمانے کے معاہدے سے پیچھے ہٹنا تھا۔مسک کی ہیرا پھیری کارگر رہی اور خریداری کے اعلان کے بعد ٹوئٹرکی مالیت 8 ارب ڈالر کم ہوگئی۔

جمعرات کو ٹوئٹر کے حصص قدرے بڑھ کر 39.52 ڈالر پر بند ہوئے، سرمایہ کاروں کے شک  کی وجہ یہ ہے کہ ٹویٹر کی خریداری 54.20 ڈالرفی شیئر پر مکمل ہو جائے گی جس کی اصل میں ایلون مسک نے بولی لگائی تھی۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے سیکیورٹیز کے قوانین کو نظر انداز کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون اور ٹیکس کوڈ کا سہارا لیکر  دوسرے امریکیوں کے سرمائے سے اپنی دولت  میں اضافہ کرسکتا ہے۔
ٹویٹر نے ریگولیٹری فائلنگ میں کہا ہے کہ وہ متفقہ قیمت اور شرائط پر بغیر کسی تاخیر کے کمپنی کی فروخت کا معاہدہ مکمل کرنے  کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ تحاریر