سندھ ہائی کورٹ کا نمرہ کاظمی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا ہے اگر ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا کہ نمرہ کاظمی کی عمر 18 سال تو اسے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت ہو گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے نمرہ کاظمی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیسٹ میں آپ کی عمر 18 سال ہوئی تو شوہر کے ساتھ جانے دیں گے۔ سندھ میں قانون ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے بچیوں کی شادی نہیں ہوسکتی ہے۔
سندھ پولیس کی بڑی کامیابی ، کراچی سے لاپتا ہونے والی نمرہ کاظمی کو شوہر سمیت عدالت میں پیش کردیا گیا ، آئی جی سندھ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پولیس کے دیگر حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات: آزاد امیدواروں نے میدان مارلیا
سندھ ہائی کورٹ میں نمرہ کاظمی کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر نمرہ کاظمی نے کہا کہ میں 10ویں جماعت میں ہوں ، پڑھائی کی وجہ سے میری کم لکھوائی گئی تھی ۔ اگر کسی کو شک ہے تو میرا ٹیسٹ کروایا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ میٹرک میں اگر آپ پڑھتی ہیں تو آپ 18 سال کی تو نہیں ہوئی۔ سندھ کے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچی شادی نہیں کرسکتی۔
عدالت نے نمرہ کاظمی کے شوہر سے استفسار کیا آپ کہاں رہتے ہیں ؟ اس پر نمرہ کاظمی کے شوہر نےبتایا کہ میں تونسہ شریف میں رہتا ہوں، نمرہ کراچی میں رہتی ہے۔
بعدازاں عدالت نے نمرہ کاظمی کو میڈیکل چیک اپ کے لیے دو سے تین دن کراچی میں رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیسٹ میں آپ کی عمر 18 سال ثابت ہو گئی تو آپ کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت ہوگی۔









