زکریا ایکسپریس میں خاتون سے زیادتی، ریلوے حکام کا نوٹس، دو ملزمان گرفتار

ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے خاتون سے اجتماعی زیادتی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں ، واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

زکریا ایکسپریس میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ ، ترجمان پاکستان ریلویز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس جو پرائیویٹ مینجمنٹ SSR گروپ کے تحت چلائی جا رہی ہے ، اس میں 27 مئی کو افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

اورنگی ٹاؤن کراچی کی رہائشی مسماۃ ف ، 27 مئی کو ملتان سے کراچی جانے والی ٹرین زکریا ایکسپریس میں بیٹھیں۔ روہڑی اسٹیشن کے بعد ، عملے میں سے زاہد نامی شخص نے خاتون کو بزنس کمپارٹمنٹ AC میں بیٹھنے کو کہا جہاں ٹرین کا مینیجر عاقب پہلے سے موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حمزہ شہباز کا انتخاب، کیا 63 اے کی تشریح پر پورا اترتا ہے؟

سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی سندھ سے چارج واپس لینے کا حکم

زاہد، عاقب اور عملے کے تیسرے رکن ذوہیب نے ان سے اجتماعی زیادتی کی۔ جب ٹرین کراچی سٹی سٹیشن پر پہنچی تو اس کو لینے کئی نہ پہنچا چنانچہ مسماۃ ف پلیٹ فارم پر بنچ پر بیٹھ گئیں۔ سٹی اسٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود ریلوے پولیس اہلکار نے ان سے کسی بھی مسئلے اور درکار مدد  کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ریلوے پولیس اہلکار سے اپنی مشکل یا کسی واقعے کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا۔

جب مسماۃ ف کچھ دیر تک وہیں بیٹھی رہیں تو ریلوے لیڈی پولیس انہیں پولیس سٹیشن ہیلپ سینٹر لے آئی۔ وہاں امدادی مرکز کے اہلکار نے ان کی بہن مس حنا سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی جو اپنے شوہر کے ساتھ تھانے پہنچیں جس کے بعد مسماۃ ف ان کے ساتھ چلی گئیں۔

اس موقع پر مسماۃ ف نے کسی طرح کا کوئی واقعہ نہ تو رپورٹ کیا نہ ہی قانونی کاروائی کی درخواست کی۔

بعد ازاں ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے پر ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ کراچی نے مسماۃ ف سے رابطہ کر کے انہیں معاملہ رپورٹ کرنے کی درخواست کی۔

اس کے بعد مسماۃ ف کا ڈی سی او ریلوے اور لیڈیز پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا گیا۔ ان کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے کو سارے واقعے کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔

عملے کے ارکان پرائیویٹ شعبہ سے ہیں اور آئی جی ریلوے پولیس نے اس ضمن میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ایکشن ہوتا ہوا نظر آئے گا اور واقعے میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلوے نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس کو نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کی ہیں۔

انہوں نے پرائیوٹ (outsourced) ٹرینوں میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

اطلاع کے مطابق دو ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں اور تیسرے کے گرفتاری کے لئی ریلوے پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔

متعلقہ تحاریر