سکھر: آٹھ ماہ سے لاپتہ لڑکی کا معاملہ، عدالت نے پولیس کو چاردن کی مہلت دے دی
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ کوئی بہانا نہیں لڑکی بازیاب کروائی جائے ، اگر لڑکی بازیاب نہ ہوئی تو عدالت آئی جی سندھ کو طلب کرے گی۔
سکھر: آٹھ ماہ سے لڑکی کے لاپتہ ہونے کا معاملہ ، لڑکی فہمیدہ کے والد شریف لاشاری کی پٹیشن پر سماعت ، جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لڑکی کو اغوا کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیاہے۔ عدالت نے ایس ایس پی سکھر کو چار دن کی مہلت دے کر سماعت ملتوی کردی۔
تفصیلات کے مطابق آٹھ ماہ سے لڑکی لاپتہ ہونے کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ میں لڑکی فہمیدہ کے والد شریف لاشاری کی پٹیشن پر سماعت جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ سکھر کی سنگل بینچ نے کی سماعت پر ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک اور وکلاء پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی سندھ سے چارج واپس لینے کا حکم
سندھ ہائی کورٹ کا نمرہ کاظمی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم
عدالت نے اغوا ہونے والی لڑکی کو چار روز میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا، آٹھ ماہ گزر گئے ہیں لڑکی بازیاب کیوں نہیں ہوئی۔
جس پر ایس ایس پی نے عدالت کو بتایا کے پولیس نے دو ملزمان گرفتار کئے تھے جو چالان ہو گئے ہیں۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ کوئی بہانا نہیں لڑکی بازیاب کروائی جائے ، اگر لڑکی بازیاب نہ ہوئی تو عدالت آئی جی سندھ کو طلب کرے گی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پھر آئی جی سے پوچھا جائے گا کہ کسی کی بیٹی اغوا ہونے پر پولیس کچھ نہیں کر رہی ، لڑکی کو اغوا کاروں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
جسٹس امجد علی سہتو کا کہنا تھا انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے کہ لڑکی کا والد اتنے عرصے سے بھٹک رہا ہے، ہم سب تصور کریں کے کسی کی بیٹی اغوا ہو جائے تو دل پر کیا گزرتی ہے۔
مغویہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اغوا کار کہہ رہے ہیں کہ بیٹی کے عوض پیسے لے لو۔
اس پر عدالت نے ایس ایس پی سے استفسار کیا کہ سنو ایس ایس پی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیں۔
ایس ایس پی سکھر نے عدالت کو بتایا کہ میں مانتا ہوں کہ پولیس نے لاپرواہی کی ہے اب لڑکی کو جلد بازیاب کرانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
عدالت نے ایس ایس پی سکھر کو چار دن کی مہلت دے کر سماعت ملتوی کردی۔









