لاہور ہائیکورٹ میں انوکھے کیس کی سماعت: انصاف نہ ملنے پر خاتون کا انڈیا بھیجنے کا مطالبہ
متاثرہ خاتون سیدہ شہناز بی بی کا کہنا ہے 35 سال قبل میرے رشتے داروں نے کاغذات میں ہیراپھیری کرکے ہمارے گھر پر قبضہ کرلیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ میں انوکھے کیس کی سماعت ہوئی کیس کی مدعیہ خاتون نے عدالت سے اس کو انصاف کیلئے انڈیا بھیجنے کی درخواست کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں 35 سال سے دائر کیس کا فیصلہ نہ ہونے پر مدعیہ خاتون سیدہ شہناز نے اراضی کیس کے فیصلہ کیلئے انڈیا بھیجنے کی استدعا کردی۔
یہ بھی پڑھیے
شفاف انتخابات کا انعقاد، پنجاب میں تقرری و تبادلے پر پابندی کا نوٹس جاری
پنجاب: ڈی سیٹ ہونے والے ارکان کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن نہ جاری کرنے کا اقدام چیلنج
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے سیدہ شہناز کی درخواست پر سماعت کی۔
خاتون نے مطالبہ کیا کہ 35 سال سے اراضی کیس کا فیصلہ نہ ہوا ہے اس لئے اس کو انصاف کیلئے انڈیا بھیج دیا جائے۔
مدعیہ سیدہ شہناز نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کی عدالتی 35سال سے میرے کیس کا فیصلہ نہیں کر سکیں ، مجھے فوری انڈیا بھجوادیا جائے شاہد وہاں انصاف مل جائے۔
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کو انڈیا بھجوانے کا اختیار میرے پاس نہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ میں کسی ادارے کو بھی ویزہ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتا۔
خاتون مدعیہ نے اپنے موقف میں کہا کہ نو سال کی تھی جب کیس لڑانا شروع کیا۔ آج 45 سال کی ہوچکی ہوں آج تک انصاف نہیں ملا، 75 سال پاکستان کی آزادی ہو چکے ہیں مگر 35 سال سے انصاف نہیں مل سکا، بااثر افراد میری پانچ مرلہ زمین پر قابض ہیں۔
شیخوپورہ میں کرائے کے مکان پر رہتی ہوں ، اگر میں بہاولپور بنچ میں زمین کے کیس کے لیے گئی تو جان سے مار دینگے ، لہذا خاتون نے استدعا کی کہ بہاولپور بنچ سے پانچ مرلے زمین کے کیس پرنسپل سیٹ لاہور ہائیکورٹ منتقل کردیا جائے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کیس منتقلی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کے والد نے 1947 میں جالندھر سے پاکستان کے شہر بہاولپور ہجرت کی تو انہیں ایک پانچ مرلے کا گھر حکومت کی جانب سے الاٹ کیا گیا جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’1985 میں قریبی رشتے داروں نے ریکارڈ تبدیل کر کے وہ گھر اپنے نام کروا لیا۔ ’میں اس وقت نو سال کی تھی جب میں اپنے والد کی انگلی پکڑ کر عدالت آئی۔ میرے والد صاحب انتقال کر چکے ہیں میری عمر 44 سال ہو چکی ہے اور ابھی تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوا۔‘
سیدہ شہناز نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ ’2019 میں چیف سیٹلمنٹ کمشنر نے میرے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ گھر میری ہی ملکیت ہے لیکن مخالف پارٹی طاقتور ہونے کی وجہ سے کیس التوا کا شکار ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے اور دوسری درخواست یہ ہے کہ میں شیخوپورہ میں رہتی ہوں، سارا ریکارڈ چیف سیٹلمنٹ کمشنر کے پاس لاہور میں ہی ہے لہذا کیس کو بہاولپور بنچ سے لاہور پرنسپل سیٹ پر منتقل کیا جائے۔‘









