ٹیکس محصولات میں 18 ارب روپے کی کمی ، خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا

ایف بی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں موصول ہونے والے ٹیکس محصولات گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 28.4 فیصد زیادہ ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ایف بی آر نے 5349ارب روپے کے ٹیکس محصولات اکٹھے کئے ہیں۔ مقررہ ہدف سے 18 ارب روپے کم آمدن رہی۔

بڑے ٹیکس ریلیف کے باوجود ایف بی آر کے رواں مالی سال جولائی 2021 تا مئی 2022 تک کے دوران حاصل شدہ محاصل میں 28.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2022-2021کے دوران جولائی 2021 سے لے کر مئی  2022 تک کے عرصے میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب اور دبئی آئی ایم ایف کے بغیر مدد کیلیے تیار نہیں،وزیرخزانہ

اسٹیٹ بینک کا معاشی تجزیوں  کیلئے  پوڈ کاسٹ کا اعلان

ابتدائی معلومات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 5349ارب روپے کے محصولات اکٹھے کئے ہیں۔ ان دیئے گئےاعداد و شمار  میں ادائیگی رسیدوں  کی بندش اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ حساب کتاب یکسو کرنے کے بعد مزید بڑھوتری متوقع ہے ۔ یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اکٹھے ہونے والے محصولات سے 28.4 فیصد زیادہ ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل شدہ محصولات 4164ارب روپے تھے۔ رواں مالی سال کے مئی کے مہینے میں 490 ارب روپے کے محصولات اکٹھے ہوئے ہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے مئی کے مقابلے میں 26.8 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں مئی کےمہینے میں 387ارب روپے جمع ہوئے تھے۔

دوسری جانب مجموعی قومی محاصل میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جوکہ جولائی 2020 تا مئی 2021 تک 4389 ارب روپے تھے اور موجودہ مالی سال کے جولائی 2021 تا مئی 2022 تک حاصل شدہ مجموعی قومی محاصل  5644ارب روپے تھی۔اس طرح اس مد میں موجودہ مالی سال میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 28.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح رواں مالی سال کے مئی کے مہینے میں 30.4 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے مئی کے مہینے میں جاری ہونے والے ری فنڈز 21.1ارب روپے تھے۔ یوں گزشتہ مالی سال کے مئی میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم میں اس سال 44.3فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح جولائی 2021 تا مئی  2022 تک 295.5 ارب روپے بطور ری فنڈ جاری کئے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 224.2 ارب روپے ری فنڈ کئے گئے تھے۔ یہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 31.8 فیصد زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ محصولات کے حصول کی شرح میں مسلسل اور مستقل اضافہ حکومت کی جانب سے عام آدمی کو جملہ اشیائے ضروریہ پر دی جانے والی ٹیکس سہولت کے باوجود ہورہا ہے۔ ملک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تمام پی اوایل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہو۔ اس کی وجہ سے ایف بی آر کو صرف مئی کے مہینے میں متوقع محصولات میں سے 45 ارب روپے کم ہوئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر نے ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولت کے ذریعے محصولات کے حصول کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد سے حکمت عملی اور عملدرآمد، دونوں سطحوں پر متعدد منفرد اقدامات کئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ محصولات کی وصولی میں صحت مندانہ مستحکم نمو بھی ہوئی ہے۔

اسی طرح ایف بی آر کی موجودہ اعلیٰ قیادت نےشفاف ٹیکسیشن کے ایک نئے کلچر کا آغاز کیا ہے جس کی واضح توجہ صرف ٹیکس کی منصفانہ وصولی پر ہے نہ کہ ادائیگی کے لئے جاری ہونے والے ریفنڈز کو روکنا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کی بحالی کے عمل کو تیزی سے بڑھایا گیا ہے بلکہ کاروباری برادری کے لیے انتہائی ضروری ترسیلات زر کو بھی یقینی بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایف بی آر حکومت کی طرف سے اپنائے گئے معاشی چیلنجوں اور قیمتوں میں استحکام کے اقدامات کے باوجود اپنے مقرر کردہ محصولاتی اہداف سے آگےبڑھ رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر