پی ٹی آئی حکومت کوہمارےدورہ اسرائیل کا علم تھا، انیلہ علی

عمران خان کی حکومت نے وفد کے ایک  پاکستان رکن کی دورہ اسرائیل کیلیے خصوصی اجازت کا بندوبست کیا تھا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اس شخص کیخلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوگی،امریکی این جی او کی سربراہ کا دعویٰ

اسرائیل کا دورہ کرنے والی غیرسرکاری تنظیم امریکن مسلم ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل (اے ایم ایم ڈبلیو ای سی) کی سربراہ انیلہ علی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کوان کے دورہ اسرائیل کا علم تھا۔

انیلہ علی کے مطابق تحریک انصاف کی  حکومت نے وفد کے ایک  پاکستان رکن کی دورہ اسرائیل کیلیے خصوصی اجازت کا بندوبست کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی نژاد امریکیوں کی اسرائیلی صدر سے ملاقات معمولی بات نہیں!

صہیونی فوج کی فائرنگ سے خاتون فلسطینی صحافی ہلاک 

انیلہ علی نے انگریزی روزنامہ ڈان  کے نمائندہ انور اقبال سے گفتگو میں کہا کہ  انہوں نے پی ٹی آئی حکومت سے اپنے وفد کےا یک پاکستانی رکن  کیلیے دورہ اسرائیل کی خصوصی اجازت کا بندوبست کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں  یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اس پاکستانی رکن کو   اسرائیل   کا دورہ کرنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں  بنایا جائے گا۔

منگل کو جیو ڈاٹ ٹی وی پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں انیلہ علی نے دعویٰ کیا کہ ان کی این جی او کا مقصد امریکا میں مقیم مختلف برادریوں کے افراد کے درمیان بین المذاہب تعلقات کو  استوار کرنا ہے۔ لہٰذا یہ مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک فطری اتحاد تھا کہ ہم شراکت دار بن گئے اور نہ صرف اسرائیل بلکہ دبئی اور ابوظہبی کا بھی دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انیلہ  علی نے کہا کہ انہیں بہت دکھ ہے کہ پاکستان میں سیاست دان، خاص طور پر ڈاکٹرشیریں  مزاری اپنی حکومت کی برطرفی اور ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے خواتین کی بین المذاہب  تنظیم کا استعمال کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے سفر کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ہمارا مقصد مسلمانوں اور  یہودیوں کے درمیان امن قائم کرناتھا۔

متعلقہ تحاریر