اسٹیٹ بینک کے ذخائر 29ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے
زرمبادلہ کے ذخائر 36 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی سے 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 36 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی سے 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 15 ارب 78 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔ ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 37 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کی کمی سے 15 ارب 77 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 36 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد سے 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 15 ارب 78 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کا تجارتی خسارہ 43 ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا
رپورٹ کے مطابق 27مئی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 36کروڑ 60لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کمی سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر 10ارب ڈالر کی سطح سے بھی نیچے آکر 9 ارب 72 کروڑ 29 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے دیگرکمرشل بینکوں کے ذخائر کی مالیت میں بھی ایک کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی ہوئی جس سے کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 6 ارب 6 کروڑ 12 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 6ارب4کروڑ85لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ بڑھتے تجارتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ کئی ماہ سے دباؤ کا شکار ہیں تاہم گزشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ دباؤ کا شکار پاکستانی معیشت کے لیے چین کے معاشی پیکج کا سہارا مل گیا۔ چین نے پاکستان 2 ارب 30 کروڑ ڈالرز قرض ریفنانس کرنے پر اتفاق کرلیا۔
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق چین کے ساتھ قرض واپسی موخر کرنے کی شرائط طے پا گئیں۔ چین سے بہت جلد 2 ارب 30 کروڑ ڈالرز ملنے کا امکان ہے جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہوگا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق چین سے 2.3 ارب ڈالر سے پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا۔ اس رقم سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہوگا۔ چین کا معاشی پیکج پاکستان میں غیر یقینی معاشی صورت حال کو بھی کنٹرول کرنے میں معاون ہوگا۔









