سرکاری افسران کی تعیناتیاں ، آئی ایس آئی کی منظوری سے مشروط

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے اقدام نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے سویلین بالادستی کے بیانیے کو دفن کردیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی کے بیانیے کو دفن کرتے ہوئے پبلک آفس ہولڈرز کی اسکریننگ کا اختیار آئی ایس آئی کو دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تعیناتی اور ترقی کے لیے اسکروٹنی کی ذمہ داری  انٹر سروسز انٹیلیجینس (آئی ایس آئی) کو دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وفاق اور 3 صوبوں کی پٹرولیم اخراجات میں کٹوتی، حمزہ شہباز سوتے رہ گئے

غداری کا مقدمہ بناکر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش ہورہی ہے، عمران خان

وزیراعظم کی جانب سے آئی ایس آئی کو اسپیشل ویٹنگ ایجنسی کا اسٹیٹس تفویض کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو تمام پبلک آفس ہولڈرز کی اسکریننگ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن اسے پوشیدہ رکھا گیا تھا ، انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی نے کام شروع کر دیا ہے اور متعلقہ محکموں سے سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کا ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے۔

کچھ سرکاری افسروں کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ مخلوط حکومت میں شامل کئی جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے حکومتی معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت کی مخالفت کرتی تھیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے بالکل اس کے برعکس کیا اور درحقیقت ، بیوروکریسی اور حکومتی امور پر جاسوسی ایجنسی کے کردار کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے اقتدام پر ردعمل دیتے ہوئے معروف صحافی طلعت حسین نے سماجی رابطوں کی  ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ” یہ ایک خوفناک چیز ہے۔ بالکل اسی طرح سویلین اور سیاسی ادارے خود کو اس طرح کمزور کرتے ہیں اور پھر الزام لگاتے ہیں کہ یہ ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔”

معروف صحافی اور یوٹیوبر اسد طور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "سویلین بالادستی کی جدوجہد میں ایک اورتاریخی دن، وزیر اعظم شہباز شریف نے سویلین افسران / پبلک آفس ہولڈرز کی تمام تقرریوں / تعینانیوں / ترقیوں کی تصدیق اور اسکریننگ کا مکمل اختیار آئی ایس آئی کو دے دیا ہے ۔ سویلین حکام پر بے مثال اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔”

شہباز شریف کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے سابق بیوروکریٹ کامران شفیع نے لکھا ہے کہ "کوئ نئی بات نہیں ہے ، جب بے نظیر بھٹو نے مجھے پریس انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) تعینات کرنا چاہا تو گیٹ نمبر 2 نے این سی اوز جاری کرنے سے قبل مجھ سے متعلق تحقیقات کی تھیں ، اسی طرح جب نواز شریف نے مجھے کیوبا بھیجنے کی منظوری دی تو میرے دوست اور کورس کے ساتھی زاہد زمان نے مجھے فون کیا اور کہا کہ رضوان نے گیٹ نمبر 2 کو کرنل کو بتایا ہے تاکہ فارن آفس سے منظوری حاصل کی جائے۔”

عمران خان حکومت کی سابق وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ” ان آزمائشی لمحات میں جب ہر کوئی فتنہ انگیز ماحول بنا رہا ہے, سب سے زیادہ قابل اعتماد بوٹ پالشی وزیر اعظم شہباز شریف نے بوٹ کا احترام بحال کر دیا۔ مسلم لیگ ن کو اپنے ووٹروں سے ووٹ کو عزت دو کا جھوٹ بولنے کا صلہ ضرور ملے گا۔”

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے اقدام نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے سویلین بالادستی کے بیانیے کو دفن کردیا ہے۔

متعلقہ تحاریر