جنگلات میں تواتر سے آتشزدگی کے واقعات، حکومت تحقیقات میں ناکام
جنگلات میں آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

ملک کے مختلف جنگلات میں تواترسے آتشزدگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں جبکہ ان کی وجوہات کے بارے میں کوئی تحقیقات تاحال پبلک نہیں کی جارہی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان نے چار رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے جو سوات کے پہاڑوں میں آتشزدگی کے واقعات کا جائزہ لے گی اور مجرموں کی نشاندہی کے بعد کارروائی کرے گی۔
پی ایم ڈی اے اور ریسکیو 1122 کے اہلکار خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور بونیر کے پہاڑوں میں لگنے والی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق تحصیل سوات میں پہاڑی پر دو روز سے لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مارگلہ ہلز پر آگ لگانے والی ٹک ٹاکر ڈولی کی گرفتاری کیلیے پولیس لاہور روانہ
دوسری جانب بونیر میں کے پہاڑوں اور وادی چگرزئی اور کٹکلا کے پہاڑوں میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔ بونیر کے پہاڑی جنگلات میں گزشتہ نو روز سے آگ لگی ہوئی ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ پہاڑوں میں لگنے والی آگ سے نایاب اور قیمتی جنگلات تباہ ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے شانگلہ کے جنگلات میں آگ لگنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق آتشزدگی سے ایک مرد، ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع شیرانی میں سلیمان پہاڑی سلسلے میں چلغوز ےکے جنگلات میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک اور 40 فیصد چِلغوز ےکے درخت جل کر راکھ ہوگئے تھے۔
بلوچستان میں شیرانی اور ملحقہ علاقوں کے گھنے جنگلات میں گزشتہ کچھ دنوں سے شدید آگ لگی ہوئی ہے جو بلند پہاڑوں پر تیز ہوا کے باعث قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سرحد پر واقع کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں تقریبا 26 پزار ایکڑ کے رقبے پر گھنے جنگلات پھیلے ہوئے ہیں جنھیں دنیا میں چلغوزے کے سب سے بڑے جنگلات میں سے ایک کہا جاتا ہے۔
ضلع شیرانی کے مقامی افراد کے مطابق یہ آگ خیبر پختونخواہ کے علاقے تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے بھڑکی اور پھر تیز ہوا کے باعث پھیلتی ہوئی ڈیرہ اسماعیل خان سے بلوچستان میں شیرانی میں چلغوزے کے جنگلات تک پہنچی۔ان میں پہلا مقام تورغر ہے جہاں سے آگ پھیلی اور دوسرا مقام شیرانی میں غنڈ سر کا گھنا جنگل ہے جہاں پہاڑوں کی بلندی 5 ہزار فٹ تک ہے۔
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں آگ بھڑکی آگ بجھانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ سی ڈی اے کے ترجمان نے بتایا کہ زیادہ تر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور باقی پر بھی جلد قابو پالیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا جس میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی مارگلہ جنگلات میں لگی آگ کے ساتھ ایک گانے پر فارم دیتے نظر آتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کہ آگ ٹک ٹاکر لڑکی نے لگائی تاہم نوشین سعید عرف ڈولی کو عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق دنیاکے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اپریل سے جولائی کے دوران گھنے جنگلات میں آگ کا بھڑک اٹھنا اب معمول بن چکا ہے۔ جنگلات میں آگ عموما ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث یا آسمانی بجلی گرنے سے لگتی ہے۔ مگر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے جنگل میں آگ لگنے کی شرح دیگر عوامل سے زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ گرمی کا موسم وقت سے پہلے شروع ہوجائے یا سردیاں وقت سے پہلے آجائیں تو مختلف واقعات پیش آتے ہیں۔ اس سے مئی میں وقت سے پہلے گرمی آ جانے سے جنگلات اور پودے خشک ہو گئے ہیں جہاں ہلکی سی چنگاری سے بھی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔









