55 فیصد پاکستانی یوٹیوب چینلز کا ٹریفک بیرون ملک سے آرہا ہے

پاکستانی یوٹیوب چینلز کا مواد پوری دنیا میں مقبول ہے

پاکستان میں گوگل کے  ڈائریکٹر فرحان قریشی  کا کہنا ہے کہ پاکستانی یوٹیوب چینلز پر 55 فیصد ناظرین بیرون ملک سے ہوتے ہیں ۔ مقامی یوٹیوبرز جو مواد اپلوڈ کرتے ہیں وہ پوری دنیا میں مقبول ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق  گوگل کے پاکستانی ڈائریکٹرفرحان قریشی نے مشہور یوٹیوبرز،  ڈکی بھائی، سم تھنگ ہوٹ، سسٹرولاجی اور اسٹریٹ فوڈ پی کے کی طرف سے منعقدہ ایک ورچوئل پینل ڈسکشن  میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی یوٹیوب چینلز پر 55 فیصد ناظرین بیرون ملک سے ہوتے ہیں ۔ مقامی یوٹیوبرز جو مواد اپلوڈ کرتے ہیں وہ پوری دنیا میں مقبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایلون مسک کی ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ منسوخ کرنے دھمکی

فرحان قریشی نے  بتایا کہ 300 پاکستانی یوٹیوب چینلز کے 10 لاکھ سبسکرائبر ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر 35 فیصد بڑھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار ہزار یوٹیوب چینلز ایسے ہیں جن کے 1 لاکھ سبسکرائبر ہیں جو کہ 45فیصد کی ترقی کی شرح کو ظاہر کرتے ہیں۔

فرحان قریشی  کے مطابق  پاکستانی یوٹیوب چینل اب سالانہ 10 لاکھ روپے کما رہے ہیں جو سالانہ بنیادوں پر 140 فیصد سے زیادہ کی شرح نمو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یوٹیوب اپنے مواد کے تخلیق کاروں کو مالی طور پر مستحکم ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

پینل ڈسکشن کے دوران مواد کے تخلیق کاروں نے اپنے یوٹیوب کے سفر کی کہانیاں بھی شیئر کیں کہ انہوں نے کس طرح اپنے سفر کا آغاز کیا اور کس طرح وہ ایک کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہوئے اور کس طرح یوٹیوب نے ان کی زندگی بدلی اور آج وہ کہاں کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں یوٹیوب پر بہتر مواد اپلوڈ کرنے والوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں ان کے دیکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

متعلقہ تحاریر