قیمتوں میں اضافے کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

 گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ کے دوران ایک لاکھ39 ہزار 613 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جبکہ رواں سال اسی  عرصے میں اب تک 2لاکھ10 ہزار 633 گاڑیاں فروخت ہوچکی ہیں

قیمتوں میں بے پناہ اضافے، اسٹیٹ بینک کی جانب آٹو کار فنانسنگ  پر سخت قواعد و ضوابط کے نفاذ اور شرح سود میں اضافے کے باوجود مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ کے دوران ایک لاکھ39 ہزار 613 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جبکہ رواں سال اسی  عرصے میں اب تک 2لاکھ10 ہزار 633 گاڑیاں فروخت ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مالی سال کے 9 ماہ میں گاڑیوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ

آٹو اسمبلرز نے موٹرسائیکلوں کی قیمتیں پھر 9ہزار روپے تک بڑھادیں

 

پاکستان ی صارفین کی  پک اپس اور جیپس   میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں کی فروخت 43فیصد اضافے کے بعد 28 ہزار 34 یونٹس سے بڑھ کر 40ہزار 255 یونٹس تک جاپہنچی ہے۔تاہم اپریل 2022 کے مقابلے میں مئی 2022 میں ان مہنگی گاڑیوں کی فروخت 3ہزار917 یونٹس سے کم ہوکر 3 ہزار498 پر آگئی ہے۔

پچھلے مہینوں میں  بڑی تعداد میں کی گئی ایڈوانس بکنگ کی وجہ سے کار، پک اپس اور جیپس کے  اسمبلرز اب تک بڑی تعداد میں گاڑیاں فروخت کررہے ہیں۔

تاہم، ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سنی کمار کا خیال  ہے کہ معاشی سست روی، شرح سود میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے آٹو فنانسنگ کو مزید سخت کرنے سے گاڑیوں کی فروخت پر نمایاں اثر پڑے گا۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق رواں مالی سال کے 11 ماہ میں ہونڈا سوک اور سٹی کی مشترکہ فروخت 42 فیصد بڑھ کر 31ہزار776 یونٹس ہو گئی، جوکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 22ہزار450 یونٹس تھے۔

ٹویوٹا کرولا اور یارس کی فروخت 42 ہزار912 یونٹس سے21.3 فیصد بڑھ کر 52 ہزار75 یونٹس ہوگئی جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت اکتوبر 2021 سے مارچ 2022 تک ماڈل کی مکمل تبدیلی کی وجہ سے 114 فیصد اضافے کے بعد  2ہزار108 یونٹس سے بڑھ کر 4ہزار514 یونٹس ہوگئی۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران مارکیٹ میں نئی آنے والی ہانڈائی الانٹرا اور سوناٹا کی فروخت بالترتیب 3 ہزار 120 اور 2 ہزار581  یونٹس رہی  جبکہ سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی فروخت میں بالترتیب 36فیصد اور 78فیصد بڑھ کر 20ہزار701 اور 20ہزار997 یونٹس ہو گئی جو کہ گزشتہ مالی سال میں 15 ہزار240 اور 11 ہزار 805 یونٹس تھی۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ میں سوزوکی بولان 800 سی سی  اور آلٹو 660 سی سی  کی فروخت  بالترتیب 33فیصد اور 75فیصد بڑھ کر 11 ہزار 145 اور 63 ہزار711 یونٹس ہو گئی جو پچھلے سال 8ہزار9 اور 36 ہزار504 یونٹس تھی۔

ٹرکوں کی کل فروخت (ہینو، ماسٹر، اسوزو، اور جے اے سی) 3 ہزار343 یونٹس سے 59.6 فیصد بڑھ کر 5 ہزار337 یونٹس ہوگئی جو مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ سامان کی نقل و حمل میں اضافے کی عکاسی کرتی ہےجبکہ ماسٹر سیلز میں 4 فیصد اضافے کے باوجود بسوں کی فروخت 599 یونٹس سے 4.5 فیصد کم ہوکر 572 یونٹ رہ گئی۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ میں ٹویوٹا فارچیونر اور آئی ایم ویز  کی مشترکہ فروخت 9 ہزار 789 یونٹس سے بڑھ کر 16 ہزار 149 ہوگئی۔ 14فیصد اضافے کے ساتھ ہانڈائی ٹوسان  کی فروخت 3 ہزار517 یونٹس کے مقابلے میں 3 ہزار998 یونٹس رہی۔ ہونڈابی ار وی  کی فروخت 3 ہزار 536 یونٹس سے 7 فیصد بڑھ کر 3 ہزار 773 ہوگئی۔

متعلقہ تحاریر