سندھ ہائی کورٹ کا فریئر ہال میں دروازوں کی تعمیر روکنے کا حکم
عدالت نے فریئر ہال میں نئی تعمیرات کے خلاف مرتضیٰ و باب کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

سندھ ہائی کورٹ نے شہری انتظامیہ کی جانب سے فریئر ہال کے اطراف میں نصب کیے گئے دروازے فوری طور پر گرانے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل سنگل بینچ نے فریئرہال سمیت دیگر آثار قدیمہ میں شامل عمارتوں میں نئی تعمیرات کے خلاف سماجی کارکن، ریسرچر اورآرٹیکچرماروی مظہر کی درخواست پر سماعت کی ۔
یہ بھی پڑھیے
فریئر ہال بند کرنے سے اسکی تاریخی حیثیت متاثر ہوگی، ماروی مظہر
درخواست گزار ماروی مظہر نے جبران ناصر کے توسط سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق آثار قدیمہ قرار دی جانے والی عمارتوں میں نئی تعمیرات نہیں کی جا سکتی ہیں لیکن اس کے باوجود فریئرہال جو آثار قدیمہ کی عمارتوں میں شامل ہے وہاں پر نئی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ استدعا ہے کہ تعمیرات کو فی الفور روکا جائے۔
ہائی کورٹ نے دوران سماعت فریئر ہال گارڈن کی حدود میں نصب گیٹ کو فوری طور پر گرانے کا حکم دیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کو کراچی کے تاریخی ورثے کے معاملات میں مزید مداخلت سے روک دیا۔
عدالت نے فریئر ہال سمیت دیگر آثار قدیمہ میں شامل عمارتوں میں نئی تعمیرات کے خلاف ایڈ منسٹریٹر کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم کی) مرتضی و باب کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے و ضاحت طلب کی۔
دوران سماعت عدالت نے کہا کہ آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانا ناقابل برداشت ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یاد رہے کہ کہ اتوار کی صبح سول سوسائٹی اور عوام نے شہری حکام کی جانب سے فریئر ہال گارڈن میں گیٹ اور باڑ کی تعمیر پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا ۔
سماجی کارکن، ریسرچر اورآرٹیکچرماروی مظہر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر فریئرہال کو بند کے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات سے لطف اندوز ہونا شہریوں کے حقوق ہیں۔ لگتا ہے کہ سمندر اور باغوں سمیت شہر میں عوام سے ہر چیز دور کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔
You might work in all your speed and irrelevant expenditure. Govt officials must focus on infrastructural issues and not on beautification of the city from their lens. Take public opinion and surveys, like how it’s done in mega cities. “Public Call on Design” pic.twitter.com/aKaM8yXW3g
— Marvi Mazhar (@marvimazhar) June 18, 2022
معروف ڈیزائنر، اداکار دیپک پروانی نے بھی فریئر ہال دروازے لگاکر بند کرنے کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جب فریئر تعمیر کرنے والے انگریزوں نے چاروں طرف دروازی نہیں لگایا تو تم کون ہوتے ہو عوامی جگہ بند کرنے والے ؟۔
When the british did not put a wall around it or a door then who the hell are you blocking off public spaces that belong too the people of #karachi #free #FrereHall stop wasting public money with ridiculous ideas too pocket ur #corruption
— Deepak perwani (@DPerwani) June 20, 2022
واضح رہے کہ فریئر ہال وسطی کراچی کے نوآبادیاتی دور کے صدر ٹاؤن میں واقع ہے۔ فریئر ہال عبداللہ ہارون روڈ (سابقہ وکٹوریہ روڈ) اور فاطمہ جناح روڈ (سابقہ بونس روڈ) کے درمیان واقع ہے۔
خیال رہے کہ کراچی کا فرئیر ہال کو یادگار لینڈ مارک کہلاتا ہے ۔ سیٹھ دھول جی ڈنشا نے فریئر ہال کی تعمیر کی لیے زمین عطیہ کی تھی ۔ برطانوی کمشنرسر ہنری برٹیل ایڈورڈ فرئیر نے فریئر ہال 1860 سے 1865 کے درمیان تعمیر کروایا۔









