ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والی گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ بند
ایک رپورٹ کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار 151 سے 200 پرٹیکیولیٹ میٹرز ہو تو یہ مضر صحت ہے۔
دھواں دینے والے گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیور ہوشیار ہوجائیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج سے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا گیا۔
اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کا داخلہ بند کیا گیا ہے، جب کہ شور (نوائز پلوشن)کا سبب بنے والی پریشر ہارن والی گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اداروں سے متعلق توہین آمیز ٹوئٹ، آئی ایچ سی کا مریم ملک کو بیان ریکارڈ کرانے کا حکم
چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمان کا استحقاق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ
آئی جی اسلام آباد نے ہدایت کی ہے کہ کسی ان فٹ گاڑی کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جائے۔
ٹریفک پولیس اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے بھی مشترکہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار 151 سے 200 پرٹیکیولیٹ میٹرز ہو تو یہ مضر صحت ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں کئی مرتبہ فضائی آلودگی اس سے زائد پائی گئی۔
ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں 25 سے 35 فیصد تک گاڑیاں ماحولیاتی کے لحاظ سے ان فٹ ہیں۔
پاکستان میں چلنے والی گاڑیاں، ٹرک اور دیگر ہیوی وہیکلز سے خارج ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت ماحول دشمن گیسوں کی مقدار معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔
دی اسٹیٹ آف گلوبل ایئر کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ملیریا ، ٹریفک حادثات ، غذائی کمی یا الکوحل کے بعد قبل از وقت اموات کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے نومولود بچوں کی عمر اوسطاً 20 ماہ کم ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے محکمہ ماحولیات کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی میں 43 فی صد حصہ گاڑیوں کے دھویں کا ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر بیس فیصد صنعتی دھواں اس آلودگی کی وجہ بن رہا ہے۔ ٹرک اور لوڈنگ گاڑیاں سب سے زیادہ ماحول دشمن گیسوں کا اخراج کرتی ہیں۔









