وزارت داخلہ کا پی ٹی آئی کے احتجاج روکنے کیلئے 18کروڑ روپے کا مطالبہ
وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے کیلئے 14 اور سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے 4 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے

وزارت داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں سے نمٹنے کیلئے 18 کروڑ روپے سے زائد ضمنی گرانٹ کا مطالبہ کردیا ہے ۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کا 13 نکاتی ایجنڈا سامنے آگیا ہے ۔ وزارت داخلہ نے ملک میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے نمٹنے کے لیے 14 کروڑ روپے جبکہ احتجاجی مظاہرین پر نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری کے لیے 4 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
فواد چوہدری نے غلط خبر پر جنگ گروپ کو بے شرم قرار دے دیا
وزارت داخلہ نے احتجاجی مظاہروں کے دوران امن و امان کی صورتحال بحال رکھنے کے لیے 140 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ جبکہ 39 ملین روپے سی سی ٹی وی کیمرے خریدنے کے لیے مانگے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق ملک امن و امان برقرار رکھنے کیلئے 14 کروڑ سے زیادہ کی ضمنی گرانٹ کی منظوری متوقع ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے ملک میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے5ارب69 کروڑ روپے کی ریگولر گرانٹ کے مطالبے پر بھی غورہوگا۔
ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے، احتجاجوں اور دھرنوں سے نمٹنے کیلئے وزارت داخلہ کیلئے18 کروڑ روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ کی منظورکرلی جائے گی ۔
سابق وزیرمملکت فرخ حبیب نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پراپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں زہر کھانے کے پیسے نہیں جبکہ تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
ایک طرف زہر کھانے کے پیسے نہیں ہے اور عوام کو ایک کپ چائے پینے کے مشورہ دئیے جارہے ہے
دوسری جانب ECC ایجنڈا 5 پر وزرا کالونی میں نااہل وزیروں کے گھروں آرائش کے لئے پیسے مانگ رہے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایجنڈا 8,9 میں 18 کروڑ روپیہ PTI کے احتجاج کو روکنے لئے مانگے جارہے ہے۔ pic.twitter.com/pzvhRMSANC— Farrukh Habib (@FarrukhHabibISF) June 21, 2022
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ آزادی مارچ کا اعلان کیا تو وفاقی حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے اسلام آباد کو مکمل سیل کردیا تھا ۔
آزادی مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 14 کروڑ روپے کے زائد اخراجات کیے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں جگہ جگہ کھڑے کیے گئے کنٹینرز ، پبلک ٹرانسپورٹ بیسیں کے کرائے بھی علیحدہ سے ادا کیے گئے ۔









