پاکستان پر عدم اعتماد، چین کا سی پیک کی سیکیورٹی اپنی کمپنی کو سونپنے کامطالبہ
جاپان جریدے نکئی ایشیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے چینی مطالبے کو مسترد کردیا ہے

پاکستان میں چینی اثاثوں اور شہریوں پر حملے کے بعد چین نے اسلام آباد سے اپنی سیکیورٹی کمپنی کی تعنیاتی کا مطالبہ کردیا ہے تاہم پاکستان نے بیجنگ کی درخواست کو مسترد کردیا ہے مگر چینی حکام اس حوالے سے مسلسل دباؤ ڈالتے نظر آرہے ہیں۔
جاپان جریدے نکئی ایشیاء نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ چین نے پاکستان میں اپنے اثاثوں اورشہریوں کی حفاظت کے لیے اپنی سیکیورٹی کمپنی تعینات کرنا چاہتا ہے ۔ نکئی ایشیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد نے بیجنگ کی درخواست مسترد کردی ہے مگر چین اس قسم کے انتظامات پر دباؤ دے رہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
سکریٹری جنرل نیٹو کا فوجیوں کی تعداد 3 لاکھ تک بڑھانے کا اعلان
جاپانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں ماہ چینی وزارت خارجہ نے پاکستانی وزارت خارجہ سے چینی سیکیورٹی کمپنی کو ملک کے اندرکام کرنے کی اجازت مانگی تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس پر اعتراض کیا اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز چینی اثاثوں اور شہریوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں ۔
نکئی ایشیا کے مطابق ایک مقامی نجی سیکیورٹی کنسلٹنگ کمپنی کے اہلکار کے مطابق بیجنگ نے اپنے شہریوں کی خود حفاظت کرنے کی کوشش کی کیونکہ گزشتہ سال داسو ڈیم حملے میں 10 چینی باشندے مارے گئے تھے جبکہ رواں سال کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں پر حملہ ہوا جس میں کئی افراد جان سے گئے ۔
نکئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ پاکستانی حکام نے بھی اب تک معاملے پر عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی ۔ وزیر خارجہ بلاول کے دورہ چین کے موقع پربیجنگ حکام نے چینی شہریوں کی حفاظت کے پاکستانی عزم کو سراہا تھا ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ جرمن تھنک ٹینک کے مطابق چین میں 5000 سے زیادہ نجی سیکیورٹی کمپنیاں ہیں، جن میں سے 20 بین الاقوامی سطح پر کام کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے بیجنگ کو پاکستان میں کام کرنے کی بہت زیادہ اجازت دی ہے تاہم سیکیورٹی کمپنی کی اجازت نہیں دیگا ۔
امریکی ولسن سینٹر کے تھنک ٹینک کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ اگر بیجنگ اب اپنی سیکیورٹی خود لانے کے لیے تیار ہے، تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے تحفظ کی پاکستان کی صلاحیت پر عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے ۔









