کورونا کیسز میں دن بدن اضافہ، حکومت بے حس اور عوام بے فکر
حکومت اور عوام نے دونوں نے کورونا کو ایک عام بیماری کے طور پر لینا شروع کردیا ہے

ملک کے بہت سے شہروں میں کورونا کی شرح انتہا کی سطح کو چھو رہا ہے جبکہ حکومت اورعوام نے دونوں نے وبائی بیماری کوایک عام بیماری کے طور پر لینا شروع کر دیا ہے۔
انگریزی اخبار ڈان نیوز میں ایک شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اتوار کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 650 کوویڈ کیسز درج ہوئےجو کہ ایک دن پہلے ریکارڈ کیے گئے 818 انفیکشن سے کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ میں کورونا پابندیوں کا نیا حکم نامہ جاری، ماسک پہننا لازم قرار
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ ) کے مطابق ملک بھر میں مثبت کا تناسب، 3.88 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ ایک روز قبل یہ 4.47 تھا ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16,755 ٹیسٹ کیے گئے تھے ۔
صوابی صرف سات افراد کے کورونا ٹیسٹ کی بنیاد پر وہاں 43 فیصد مثبت رجحان دیکھایا گیا ہے تاہم حکومتی کورونا ٹاسک فورس کے رکن نے کہا کہ ٹیسٹوں کی کم تعداد کے پیش نظر ایسے اعداد و شمار کو نظر انداز کرنا چاہیے ۔
صوابی میں صرف 7 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 3 کا کورونا مثبت آیا اس بنیاد پر وہاں کووڈ کی سطح 43 فیصد ظاہر کی گئی جبکہ اسی طرح مظفر آباد میں 7 فیصد کی شرح صرف 73 ٹیسٹ کی بنیاد پر ظاہر کیے گئے ۔
ممبر سائنٹفک ٹاسک فورس کووڈ-19 ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم ٹیسٹوں کی تعداد سے زیادہ مثبت شرح پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صوابی میں جمع کیا گئے سات نمونوں کو شہر کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے نظر انداز کردینا چاہیئے ۔
ڈاکٹر جاوید اکرم صرف کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں کورونا کے مناسب جانچ پڑتال کی جار ہی ہے تاہم میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نمونے لینے کے مختلف طریقوں کے مطابق ابتدائی نقطہ سے ہر چوتھے یا پانچویں گھر اور دکان کو ڈیٹا میں شامل کیا جائے اور پھر وہاں موجود تمام لوگوں کا ٹیسٹ کیا جائے۔
این آئی ایچ کے ایک اہکار نے بتایا کہ ہر پانچ دن میں کووِڈ کیسز کی تعداد دگنی ہو رہی ہے، اسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور اموات بھی دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے گزشتہ حکومت کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی )کو بندش کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا جو کہ کورونا کی صورتحال کی نگرانی کر رہا تھا ۔
این سی او سی کو عملی طور پر فوج چلا رہی تھی جس میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میڈیا کو وبائی مرض مہمات چلانے اور عوام کو آگاہی دینے پر زور دے رہا تھا کہ ٹیسٹ کروانا، ویکسین لگانا اور اس پر سختی سے عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔
این سی او سی کے جانے کے بعد وزارت صحت نے میڈیا پر اس طرح کی مہم نہیں چلائی جیسا کہ آرمی چلا رہی تھی تاہم اب این سی او سی دوبارہ بحال ہوگیا ہے مگر اس کی صدارت وفاقی وزیر صحت کررہے ہیں۔









