کراچی چیمبر کا بندرگاہوں پر کنٹینرز کی کلیئرنس بند ہونے پر تشویش کا اظہار
کے سی سی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی کے بعد 900 کنٹینرز بندرگارہوں پر پھنس گئے، وزیراعظم کنٹینرز کی فوری کلیئرنس کے احکامات جاری کریں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے لگژری آئٹمز پر عائد پابندی کے بعد بندرگاہوں پر کسٹمز حکام کی جانب سے کنٹینرز کی کلیئرنس بند کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
وفاقی حکومت نے19مئی 2022 کو ایس آر او 598 (i)/2022 کے تحت 85 اقسام کے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
وزیراعظم جیسے جیسے اجلاس کرتے ہیں لوڈشیڈنگ ویسے ویسے بڑھتی ہے
کسی اور بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر اب کتنے پیسے کٹیں گے؟
چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا اور کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے اپیل کی کہ وہ بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کی فوری طور پر کیئرنس کے احکامات جاری کریں اور درآمد کنندگان کے نقصانات کی تلافی کے لیے ڈیمریج چارجز بھی معاف کیے جائیں۔
کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 800 سے 900 کنٹینرز جو ایس آر او 598 کے اجراء سے پہلے ہی بک ہو چکے تھے جو پابندی کے بعد بندرگاہوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ کسٹم حکام انہیں کلیئر نہیں کر رہے جس کی وجہ سے درآمد کنندگان کو بھاری ڈیمریجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی پریشانی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
صدر کے سی سی آئی کا کہنا ہے کنٹینرز کی کلیئرنس نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں متعدد اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے جسے فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔
چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا اور صدر کے سی سی آئی محمد ادریس نے اس سنگین مسئلے کو فوری حل کرنے پر زور دیا۔









