تھرپارکر میں خودکشیوں کے واقعات میں پراسرار اضافہ
تھرپارکر میں 2021 کے دوران 115 افراد نے خودکشی کی جن میں 68 خواتین بھی شامل تھیں جبکہ خود کشی کرنے والے افراد میں 99 کا تعلق ہندو برادری سے تھا

سندھ کے ضلع تھر پارکر میں گزشتہ سال 115 سے زائد افراد نے خود کشی کرلی جن میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق ہندو برادری سے تھا۔ سندھ میں ذہنی صحت سے متعلق اتھارٹی کے ایک رپورٹ کے مطابق 2016 سے لیکر 2020 تک تھرپارکر سب سے زیادہ خود کشی والا ضلع بن کر منظر پر آیا ۔
سندھ کے ضلع تھرپارکر میں خود کشی کے پر اسرار واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ تھرپارکر میں 2021 کے دوران 115 افراد نے خودکشی کی جن میں 68 خواتین بھی شامل تھیں جبکہ خود کشی کرنے والے افراد میں 99 کا تعلق ہندو برادری سے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
تھرپارکر کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس گئے
ذہنی صحت سے متعلق اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016 سے لیکر 2020 تک تھر پارکر سب سے زیادہ خود کشی ضلع رہا حالانکہ تھر پارکر کی آبادی محض 16 سے 17 لاکھ کے درمیان ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات نگرپارکر میں 32، اسلام کوٹ میں 26، چھاچھرو میں 21، مٹھی میں 19، دہیلی میں آٹھ، ڈیپلو میں سات اور کلوئی میں دو واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں تھرپارکر میں 2020 میں خودکشی کے 79 واقعات کا شمار کیا گیا ہے تاہم اس میں پچھلے سالوں کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود ضلع میں پانچ سال کی مدت میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ضلع تھر پارکر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی میر پور خاص نے خودکشیوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ خود کشی کرنے والے افراد میں 21 سے 40 سال کے 57 افراد جبکہ 15 سے 20 سال کے 46 افراد کی خودکشی کی ۔









