سکھر میں شہریوں نے اپنی بجلی بنانے کیلئے سولرپینل لگانے شروع کردیئے

 سولرپینل کے تاجروں نے عوام کی جیبیں خالی کروانی شروع کردیں، سولر سسٹم کی فٹنگ کرنے والے کاریگروں نے بھی اپنے معاوضے میں منہ مانگا اضافہ کردیا ہے

سکھر میں گرمی کی شدت میں اضافے اور توانائی بحران کے باعث  سولر سسٹم، چائنہ پنکھوں، ایل ای ڈی بلبوں کی مانگ بڑھنے لگی جبکہ تاجروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے ۔

سندھ کے تیسرے  بڑے شہر سکھر میں  گرمی  کی شدت کی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہونا شروع ہوگئے  ہیں جبکہ    توانائی کے بحران کے باعث   گھروں میں بھی سکون ندارد ہوگیا ہے  تاہم شہریوں نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے   سولر سسٹم پر بھروسہ کرنا شروع کریا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

سکھر میں بجلی کا شدید بحران، سیپکو کی صارفین کو متبادل ذرائع فعال کرنے کی ہدایت

سکھراور گردنواح کے علاقوں میں گرمی  میں اضافے کے ساتھ ہی  بجلی کی لوڈشیدنگ  کا دورانیہ  مزید بڑھ گیا ہے ۔جس نے شہریوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔بجلی کی ناپیدی کے باعث عوام  سولر سسٹم  سے چلنے والے  بجلی  کے آلات خریدنے میں  مشغول ہوگئے ہیں۔

  بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد   سولر سسٹم سے چلنے والے پنکھے ، بلب  اور دیگر اشیا خریدنے لگیں ہیں جبکہ دوسری جانب تاجروں نے عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی ہے ۔

شہریوں نے  حکومتی  وعدے بھول کر اپنی بجلی کے لیے بھاگ ڈور شروع کردی ہے ۔ شہری بڑی تعداد میں اپنے گھروں اور کاروباری مراکز پر سولر پینل لگا کر اپنی بجلی بنانے  میں مصروف ہیں ۔

سکھر کی شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں سولر پینل کی خریداری کے باعث سولر پینل  کے تاجروں نے عوام کی جیبیں خالی کروانے شروع کردیں ہیں جبکہ سولر سسٹم کی فٹنگ کرنے والے   کاریگروں نے بھی اپنے معاوضے میں منہ مانگا اضافہ کردیا ہے ۔

متعلقہ تحاریر