دعا زہرا کیس: ملزم ظہیر احمد کا وکیل عدالت سے داؤ پیچ کرنے لگا

جبران ناصر نے کہا کہ ملزم  ظہیر کا وکیل گزشتہ روز درخواست ضمانت کی سماعت کیلئے بارش کا بہانہ بناکر پیش نہ  ہوا جبکہ آج بچی کو عدالت میں بلانے کے لیے  درخواست دائر کے نے پہنچا

پسند کی شادی کرنے والی کم عمر لڑکی دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصرکا کہنا ہے کہ ملزم ظہیراحمد کا وکیل درخواست ضمانت  کی سماعت کے لیےعدالت میں پیش نہ ہوا اور بارش کا عذر پیش کردیا جبکہ آج وہ عدالت میں بچی کو پیش کرنے کی درخواست دائر کرنے کے لیے پیش ہوگیا ۔

وکیل جبران ناصر نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ کم عمر دعا زہرا سے شادی کرنے والے مرکزی ملزم ظہیر احمد اوراسکے بھائی شبیراحمد کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں  دلائل کے لیے مقررکی گئی تاہم ملزم کے وکیل نے نئی تاریخ مانگ لی اور کہا کہ بارش کے باعث  پیش نہیں ہوسکتا  ہوں جس پر ایک  اگست کی نئی تاریخ دی گئی ۔

یہ بھی پڑھیے

جبران ناصر کا دعا زہرا کے ٹی وی اور یوٹیوب پر انٹرویو روکنے کا مطالبہ

جبران ناصرنے بتایا کہ ضمانت کی سماعت کیلئے سیشن کورٹ میں حاضر نہ ہونے کا عذر پیش کرنے کے بعدملزم ظہیر احمد کا وکیل آج  مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا جس میں بچی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دی گئی ۔

واضح رہے کہ  کراچی کی کم عمر لڑکی دعا زہرا نے لاہور جاکر ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کر لی تھی تاہم لڑکی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ میری بیٹی کی عمر 14 سال ہے جبکہ ملک میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہونی چایئے ۔

مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے  مسلسل جدوجہد کرکے  دعا زہرا کو کم عمر ثابت کیا جبکہ میڈیکل رپورٹ میں دعا زہرا کی  عمر 16 سے 17 سال بتائی گئی تھی جسے مہدی کاظمی نے مسترد کردیا تھا اور جبران ناصر نے نئے میڈیکل کے لیے درخواست دائر کی تھی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے دوبارہ میڈیکل کے احکامات جاری کیے تھے ۔

مہدی کاظمی کے وکیل کی درخؤاست پر بننے والے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے دعا کی عمر 15 سال ہے جس کے بعد  وزیر اعظم کے مشیر   سلمان صوفی کی ہدایات پر دعا کو ظہیر احمد بازیاب کرواکر کراچی روانہ  کیا گیا تھا ۔

متعلقہ تحاریر