آرمی چیف کی امریکہ سے پاک آئی ایم ایف ڈیل کو تیز کرنے میں مدد کی درخواست
ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے غیر معمولی اقدام کا مقصد آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 بلین ڈالر کی ترسیل کو تیز کرنا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کو جلد قرض کی فراہمی کےلیے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کےلیے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا "نکی ایشیا” کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت نے واشنگٹن پہنچ کر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سے قرض کی جلد فراہمی کے لیے امریکی انتظامیہ سے مدد کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مفتاح اور ڈار میں تنازع:زرداری کے تجویز کردہ ظفر مسعود گورنر اسٹیٹ بینک کے مضبوط امیدوار
نکی ایشیا نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ غیر ملکی ذخائر میں کمی کی وجہ سے اسلام آباد کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قرض کی ضرورت ہے۔
نکی ایشیا نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس ہفتے کے شروع میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا اور قرض کی فراہمی میں مدد کی درخواست کی۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نکی ایشیا کو ذرائع نے بتایا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وائٹ ہاؤس اور محکمہ خزانہ سے اپیل کی کہ وہ آئی ایم ایف پر فوری طور پر تقریباً 1.2 بلین ڈالر کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالیں، یہ رقم پاکستان کو دوبارہ شروع کیے گئے قرضہ پروگرام کے تحت ملنے والی تھی۔
نکی ایشیا لکھتا ہے اگرچہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ایک منجھے ہوئے منتظم اور سیاست دان ہیں تاہم انہیں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔
نکی ایشیا نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ آئی ایم ایف نے اگلے تین ہفتوں اپنے قرض پروگرام کو فریز کیا ہوا ہے اور اس کا بورڈ اگست کے آخر تک اجلاس نہیں کرے گا۔
آئی ایم ایف کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان کے لیے قرض کی منظوری کے اعلان کے لیے کوئی ٹھوس تاریخ طے نہیں کی گئی۔
آئی ایم ایف کے اہلکار کے مطابق عملے کی سطح کی منظوری اور بورڈ کی منظوری میں بڑا فرق ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ
واضح رہے کہ 13 جولائی کو بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے خبر دی تھی کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول پر قرض کی فراہمی کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے ، جس کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو اگست کے شروع میں 1.2 بلین ڈالر کا قرض فراہم کرے گا۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اہلکار کا کہنا تھا کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندوں اور وزارت خزانہ کے درمیان ہونے والی فائنل میٹنگ کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے ای میلز پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو بتایا تھا کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے نمائندے نے قرض کے پروگرام کے حجم میں 1 بلین ڈالر کا اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ، اس طرح قرض کا کُل حجم 7 بلین ڈالر تک لے جایا جائے گا جبکہ قرض پروگرام کو جون 2023 تک توسیع دی جائے گی۔









