فیصل آباد کے تاجر کے ہاتھوں لڑکی پر بہیمانہ تشدد، انصاف کے منہ پر کالک پوت دی گئی

تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی خدیجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرے اور شیخ دانش کی فیملی کے درمیان تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔

فیصل آباد میں معروف بزنس مین شیخ دانش اور اس کی فیملی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی نے اعلان کیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا اس پر معاملات طے پا گئے ہیں، تاہم نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ 10 کروڑ روپے میں طے پایا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا ہے کہ "یہ سب کچھ اتنا جلدی ہوگیا۔”

یہ بھی پڑھیے

خدیجہ تشدد کیس: فیصل آباد پولیس پر شیخ دانش کی رہائی کیلئے شدید سیاسی دباؤ

ضمانت منسوخ: اینٹی انکروچمنٹ حکام نے حلیم عادل کو گرفتار کرلیا

خدیجہ صدیقی نے لکھا ہے کہ جو کچھ ہوا اس پر ” انا لله و انا الیه راجعون۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "سب معاملات طے پاگئے ہیں۔”

واضح رہے کہ دو روز قبل شیخ دانش اور اس کی بیٹی انا دانش کی جانب سے بی ڈی ایس کی اسٹوڈنٹ خدیجہ صدیقی پر تشدد کی خبر ہر میڈیا چینل کی ہیڈلائن کی زینت تھی ، مگر خدیجہ صدیقی نے بیان نے نئے سوالات اٹھا دیئے ہیں اور ہمارے انصاف کے نظام کے منہ پر کالک پوت دی ہے۔

فیصل آباد کے معروف تاجر شیخ دانش نے شادی سے انکار پر بیٹی کی دوست میڈکل کی طالبہ خدیجہ کو اسکے بھائی سمیت مسلح افراد کے ہمراہ گھر سے اغوا کیا اور اپنے گھر لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ چپلیں اور جوتے چٹوائے، سر کے بال کاٹے اور بھنویں موڈ دیں تھی اورآبرو ریزی کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

Businessman Sheikh Danish tortures Khadija

یونیورسٹی ٹاؤن فیصل آباد  کی رہائشی بی ڈی ایس   فائنل ایئر کی طالبہ خدیجہ دختر غفور نے ویمن پولیس اسٹیشن فیصل آبادمیں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ  شیخ دانش کی بیٹی شیخ انا علی   کے ساتھ اسکول سے اسکی دوستی تھی جس کی وجہ سے اس کا شیخ دانش کے گھر آنا جانا تھا اور آپس میں گھریلو تعلق داری اور اعتماد کا تعلق تھا۔

طالبہ خدیجہ نے الزام عائد کیا کہ  اس تعلق کی وجہ سے شیخ دانش نے اس  میں دلچسپی لیتے ہوئے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی اور اسکے گھر شادی کا پیغام بھجوادیاجس پر اس نے انکار کیا تو شیخ دانش نے اپنی بیٹی کے ذریعے اسے فون پر شادی کیلیے مجبور کرنا شروع کردیا اور انکار کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں  جس کے باعث وہ خوفزدہ ہوگئی اور باپ بیٹی کے ساتھ تعلقات منقطع کردیے۔

متعلقہ تحاریر