پنجاب حکومت میں دو صحافی زیرعتاب، ایک خلاف ایف آئی آر درج دوسرے کو قتل کی دھمکی موصول
راولپنڈی پولیس نے جیو نیوز سے منسلک رپورٹر وقار ستی کے خلاف توہین مذمب کا مقدمہ درج جبکہ لاہور پریس کلب کے صدر کو پیکٹ میں گولی موصول ہوئی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مختلف ویڈیوز کا مجموعہ بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر معروف صحافی وقار ستی کے خلاف راولپنڈی میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری کو ایک پیکٹ میں گولی بھیج کر دھمکی دی گئی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بریکنگ نیوز دیتے ہوئے یوٹیوبر اور سینئر صحافی اسد طور نے بتایا ہے کہ "یہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے کہ راولپنڈی پولیس نے وقار ستی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
25 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل
طیبہ گل کے الزامات کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا
اسد طور نے لکھا ہے کہ "وقار ستی کے خلاف ایف آئی آر سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلامی تاریخ سے متعلق جھوٹی ویڈیو شیئر کرنے پر درج کی گئی ہے۔”
#BREAKING: In a condemnable move, Rawalpindi police registered blasphemy FIR against journalist @waqarsatti on allegedly posting a video of former PM @ImranKhanPTI apparently making false claims from Islamic history. pic.twitter.com/4WKxnRNqa2
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) August 27, 2022
اسد طور نے ایف آئی آر کی کاپی بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔
ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق "وقار ستی نے سابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے منسوب مذہبی نوعیت کی باتوں پر مبنی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جوکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے نہیں کیں تھیں۔
وقار ستی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کو سراہتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ پارلیمانی امور اور رہنما تحریک انصاف راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے۔
ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے راجہ بشارت نے لکھا ہے کہ "کسی کو مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
Inciting religious hatred for political point-scoring is never acceptable. @PTIofficial’s government in Punjab will never let this disease spread. Thanks to our social media warriors who diffused this attempt on social media first. Now, here is your government playing its part. pic.twitter.com/9DSvgwuOsw
— Muhammad Basharat Raja (@RajaBasharatLAW) August 27, 2022
دوسری جانب چوہدری پرویز الہٰی حکومت میں لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری کو قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری نے لکھا ہے کہ "آج سہ پہر میں لاہور پریس کلب اپنے آفس میں پہنچا تو پہلے سے میری ٹیبل پر رائفل کی یہ گولی پڑی تھی ، ایسی بزدلانہ حرکت کرنے کی بجائے سامنے آ کر سینے پر وار کرو۔”
آج سہ پہر میں لاہور پریس کلب اپنے آفس میں پہنچا تو پہلے سے میری ٹیبل پر رائفل کی یہ گولی پڑی تھی ، ایسی بزدلانہ حرکت کرنے کی بجائے سامنے آ کر سینے پر وار کرو کیونکہ میں نے تو صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کی قسم اٹھا رکھی ۔@CMShehbaz @RanaSanaullahPK @ChParvezElahi pic.twitter.com/hoS1nHQHEp
— Azam Chaudhry (@azamch7) August 27, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "کیونکہ میں نے تو صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کی قسم اٹھا رکھی۔”
اعظم چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور وزیراعظم شہباز شریف کو بھی ٹیگ کیا ہے۔









