جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو میں تیزی سے ایڈز پھیلنے کا انکشاف
صحافی سمیرا ججا نےانکشاف کیا ہے کہ جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو میں ایڈز کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، گڑھی خیرو میں حاملہ خواتین اور بچوں سمیت 300 سے زائد افراد کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تاہم حکومت اس حوالے سے غیرسنجیدہ دکھائی دیتی ہے

سندھ کے شہر جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو میں ایڈز (ایچ آئی وی ) تیزی سے پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔ گڑھی خیرو میں حاملہ خواتین اور بچوں سمیت 300 سے زائد افراد کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا۔
صحافی سمیرا ججا نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے تھریڈ میں کہا ہے کہ جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحصیل گڑھی خیرو حاملہ خواتین اور بچوں سمیت 300 سے زائد افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا بڑا کارنامہ: کینسر کی سستی ترین دعا تیار کرلی
سمیرا ججا نے گڑھی خیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
Sources confirmed there is an HIV outbreak in Jacobabad's Garhi Khero tehsil. Over 300 people, incl pregnant women & children, tested positive. People were taken to Ratodero for tests as Garhi Khero lacks HIV testing facilities. In 2019, over 1200 kids contracted HIV in Ratodero.
— سمیرا (@SumairaJajja) September 4, 2022
سمیرا ججا نے ٹویٹر پر کہا کہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو میں ایچ آئی وی کی وبا پھیلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گڑھی خیرو کے رہائشیوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کے دوران 300 سے زائد افراد میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے ۔
Ratodero is a small city with a pretty pathetic healthcare system. THQ Hospital struggles with the daily load of sick from all over the city as well as neighbouring towns and villages. People only take their sick to the hospital when they are ‘almost dead’ cause ‘it costs money’.
— سمیرا (@SumairaJajja) May 22, 2019
انہوں نے کہا کہ گڑھی کھیرو میں ایچ آئی وی کی جانچ کی سہولیات کا فقدان ہے اس لیے لوگوں کو ٹیسٹ کے لیے رتوڈیرو لے جایا گیا ۔ 2019 میں، رتوڈیرو میں 1200 سے زائد بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔
رتوڈیرو کی طرح گڑھی خیرو بھی ایک غریب علاقہ ہے اور صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ایچ آئی وی زیادہ تر استعمال شدی سرنج کے دوبارہ استعمال سے لاحق ہونے کے اندیشے زیادہ ہیں۔
سمیرا ججا نےمئی 2019 میں رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلنے کی بھی اطلاع دی تھی۔ راتوڈیرو ایک چھوٹا شہر ہے جس میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
I still don't understand why former prime minister Imran Khan never said anything in support of over 1000 HIV+ children in Ratodero or took notice of outbreak. Agreed that health is a provincial subject but these children are Pakistanis too. @ImranKhanPTI https://t.co/Bhdd2xaXLo
— سمیرا (@SumairaJajja) September 5, 2022
ٹی ایچ کیواسپتال پورے شہر کے ساتھ ساتھ پڑوسی قصبوں اور دیہاتوں سے آئے مریضوں کو بھی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دن سے خوف ہے جب گلوبل فنڈ پاکستان کے لیے اپنی گرانٹ روک دے گا مگر لگتا ہے حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے جبکہ این جی اوز بھی صرف منافع بخش معاملات میں دلچسپی لیتا ہے ۔
I still don't understand why former prime minister Imran Khan never said anything in support of over 1000 HIV+ children in Ratodero or took notice of outbreak. Agreed that health is a provincial subject but these children are Pakistanis too. @ImranKhanPTI https://t.co/Bhdd2xaXLo
— سمیرا (@SumairaJajja) September 5, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے رتوڈیرو میں 1000 سے زائد ایچ آئی وی پلس بچوں کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی کوئی نوٹس لیا ۔









