جیونیوز کے اینکر منیب فاروق پر توہین عدالت کا مقدمہ بنے گا ؟
جیونیوز چینل کے پروگرام اینکر منیب فاروق نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کے نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کے فیصلے تاریخ میں سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور آپ کی عدالت میں کوئی فرق نہیں، کون جانبدار تھا یہ فیصلہ تاریخ کرے گی

جیونیوز کے پروگرام اینکر منیب فاروق نے چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا دیا گیا فیصلہ تاریخ کی کتاب میں سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔
جیونیوزچینل کے پروگرام اینکرمنیب فاروق نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کے نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کے فیصلے تاریخ میں سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے ۔
یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کردار کو جانبدارانہ قرار دے گیا
چیف جسٹس نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کردار تو جانبدارانہ قرار دیا تو منیب فاروق نے کہا کہ جانبدار کون تھا اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔
سر جتنی بھونڈی اور گمراہ کن تشریح جناب نے اور بردر ججز نے آرٹیکل 63 A کے معاملے پر کی وہ تاریخ کی کتاب میں سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔ جانبدار کون کون تھا اس کا فیصلہ بھی تاریخ کرے گی۔ افتخار چوہدری صاحب کی عدالت اور آپ کی عدالت میں کوئی فرق نہیں۔ https://t.co/X4BTJwnCp1
— Muneeb Farooq (@muneebfaruqpak) September 12, 2022
منیب فاروق نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کہا کہ سر جتنی بھونڈی اور گمراہ کن تشریح آپ اور ساتھی ججز نے آرٹیکل 63 A کے معاملے پر کی وہ تاریخ کی کتاب میں سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ فیصلہ کرے گی کون جانبدار تھا اور کون نہیں۔ منیب نے سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری کی عدالت اور جسٹس عمر عطا بندیال کی عدالت کو ایک جیسا قرار دیا ۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کردار کو جانبدارانہ قرار دیا تھا۔
چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیا ل نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کیا۔ فل کورٹ کی استدعا خلاف قانون کی جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کردار بھی جانبدارانہ رہا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق فیصلے کا ردعمل ججز کی تقرری کے موقع پر سامنے آیا۔ وفاق نے وزیراعلیٰ پنجاب مقدمے پر ردعمل جوڈیشل کمیشن میں دیا۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ عدلیہ کا احترام ہے ؟ ۔









