پسند کی شادیوں کا معاملہ، کراچی کی عدالتوں سے لاہور کی عدالتوں تک پہنچ گیا

پسند کی شادی کے کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں لڑکا ساس کے ہمراہ جانے سے انکار کرتا رہا، تاہم عدالتی یقین دہانی پر لڑکے نے سسرالیوں کے ساتھ پر آمادگی ظاہر کردی۔

لاہور ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کے کیس  میں عدالت کا احاطہ میدان جنگ بن گیا، لڑکے کے رشتہ دار بپھر گئے اور لڑکے کو سسرالیوں کے ہمراہ جانے سے روکنے کے لئے ہاتھا پائی کرتے رہے، اس کا مطلب ہے کہ پسند کی شادیوں کا معاملہ اب کراچی کی عدالتوں سے نکل کر لاہور کی عدالتوں تک پہنچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد شان گل نے کیس کی سماعت کی، جس میں لڑکی کے اہل خانہ نے بیٹی اور داماد کو گھر لے جانے کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیے

کار چوری کیس: لاہور ہائیکورٹ سے نوید یامین کے خلاف دائر درخواست خارج

لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر زیادتی کا ملزم فرار

پسند کی شادی کے کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں لڑکا ساس کے ہمراہ جانے سے انکار کرتا رہا، جس پر عدالت نے لڑکے سے استفسار کیا کہ شادی کی ہے تو بیوی کے ساتھ ساس کے ہمراہ سسرالیوں کے پاس جانے میں کیا رکاوٹ ہے۔ جس پر لڑکے نے موقف اختیار کیا کہ مجھے اپنے سسرالیوں سے جان کا خطرہ ہے۔

دوسری طرف لڑکے کی ساس نے عدالت سے کہا کہ میرا خاوند فوت ہو چکا ہے ، بیٹی ہی واحد سہارا ہے اور بیٹی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی ہے اب میں داماد کو بیٹی کے ہمراہ قبول کرتی ہوں۔

ساس نے عدالت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میری وجہ سے داماد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، ساس کے بیان کے بعد لڑکے نے بیوی کے ہمراہ ساس کے ساتھ جانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

عدالتی کارروائی کے کمرہ عدالت سے باہر لڑکے کے رشتہ دار بپھر گئے اور لڑکے کو سسرالیوں کے ہمراہ جانے سے روکنے کے لئے ہاتھا پائی شروع کردی۔

عدالتی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے لڑکے کے رشتے داروں کو تنبہیہ کرتے ہوئے لڑکے کو عدالتی حکم کے مطابق ساس کے ہمراہ جانے کی ہدایت کی۔

ہاتھا پائی سے لڑکی نڈھال ہو کر زمین پر بیٹھ گئی۔ عدالت میں لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی نے اغوا نہیں کیا میں نے اپنی آزاد مرضی سے منتظر نامی لڑکے سے پسند کی شادی کی ہے۔

خیال رہے لڑکی کی والدہ صنم شکیل نے بیٹی کی بازیابی کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر