لاڑکانہ میں بدترین سیلاب میں زندہ بچنے والی لڑکی سانپ کے کاٹنے سے مرگئی
پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کی رہنما اور معروف مصنفہ فاطمہ بھٹوکا کہنا ہےعمرانی برادری کی 16 سالہ لڑکی کو سانپ کے کاٹنے کے بعد لاڑکانہ کے اسپتال لیکر گئے تاہم وہاں سانپ کے کاٹے کے انجکشن میسر نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی انتقال کرگئی جبکہ لواحقین کے احتجاج کے بعد پولیس ان کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں ہراساں کررہی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کی رہنما اور معروف مصنفہ فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ایک طرف سندھ کے مکین ایک طرف سیلاب کی وجہ سے مشکل کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب پولیس انہیں ہراساں کررہی ہے ۔
فاطمہ بھٹو نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اپنے پیغام بتایا کہ لاڑکانہ کی عمرانی برادری کی ایک 16 سالہ لڑکی کو سانپ میں کاٹ لیا تاہم طبی امداد نہ ملنے کے باعث وہ بیچاری جان کی بازی ہار گئی۔
یہ بھی پڑھیے
اقوام مغرب ساتھ دیں ورنہ سیلاب سے بچنے والے بھوک سے مرجائیں گے، فاطمہ بھٹو
انہوں نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے مشکلات میں گھرے سندھ کی عمرانی برادری کی 16 سالہ لڑکی کو سانپ کے کاٹنے کے بعد اسپتال لیکر گئے تاہم وہ سانپ کے کاٹے کے انجکشن میسر نہیں تھے ۔
After the floods, the Umrani family lost a 16 year old daughter to a snake bite. They were turned away from the hospital which did not give her anti-venom: zero basic care. And now the Larkana dist police are raiding their home. This is pure vindictiveness and I won’t forget it.
— fatima bhutto (@fbhutto) September 30, 2022
فاطمہ نے بتایا کہ سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے لڑکی کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی تاہم اسپتال میں اس کی بلکل بھی دیکھ بھال نہیں کی گئی جبکہ طبی مرکز میں سانپ کاٹے کی ویسکین بھی نہیں تھی ۔
انہوں نے بتایا کہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد عمرانی براداری کی جانب سے اسپتال انتظامیہ اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تاہم پولیس والوں نے مظاہرین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔
فاطمہ نے سندھ حکومت کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمرانی برادری کے احتجاج کے بعد لاڑکانہ ضلع کی پولیس ان کے گھر پر چھاپہ مار رہی ہے۔ یہ خالص انتقام ہے اور میں اسے نہیں بھولوں گا۔









