خرم دستگیر کی وزارت توانائی کاملک میں بجلی کی مکمل بحالی کا دعویٰ کتنا درست ہے؟  

وزارت توانائی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر جاری ایک بیان میں بجلی بریک ڈاؤن پر قابو پانے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا گیا ہےکہ ملک میں بجلی کی سپلائی مکمل بحال کردی گئی ہے تاہم ذرائع  کے مطابق کئی پاور پلانٹس تاحال بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے 4 ہزار میگاواٹ کی بجلی کی کمی کا سامنا ہے

وزارت توانائی نے ملک میں بجلی کی مکمل ترسیل بحال ہونے کادعویٰ کیا ہے۔ حکام نے کہا کہ پاور ڈویژن اور نیشنل پاورکنٹرول سینٹر کے کارکنوں کی سخت محنت کے بعد ملک بھر میں بجلی کا تعطل ختم ہوگیا ہے ۔

وزارت توانائی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر قابو پالیاگیا ہے۔ نیشنل گرڈ سے کراچی سے بجلی کی فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی، کراچی سمیت ملک کے کئی علاقے بجلی سے محروم

ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں بجلی کی ترسیل اور جنریشن بحال کردی گئی ہے۔ نیشنل گرڈ سے کراچی کو بجلی کی سپلائی کی بحال ہوچکی ہے تاہم اب صرف معمول کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔

وزارت توانائی کے بیان کے مطابق ملک میں آئے بجلی کے بڑے تعطل کو پاور ڈویژن اور نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے کارکنوں کی سخت محنت سے بحالی ممکن ہوسکی ہے ۔

تاہم دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز ہونے والے بریک ڈاؤن کے اثرات اب تک ختم نہیں ہوسکے۔ کچھ پاور پلانٹس تاحال بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے تاحال 4 ہزار میگا واٹ سے زائد کمی کا سامنا ہے ۔

ذرائع کے مطابق گڈو تھرمل پاور کے 6 یونٹ ٹرپ کرنے سے 900 میگا واٹ بجلی کی کمی کا نقصان ہوا ہے جبکہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران ملک میں یہ بجلی کا 16 بڑا بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیر نے بجلی بریک ڈاؤن کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اب تک اس پر کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے ۔

متعلقہ تحاریر